یوپی اسمبلی کا سرمائی اجلاس 28 نومبر سے شروع ہوگا، حکومت پیش کرے گی ضمنی بجٹ
UP Assembly: یوپی اسمبلی کے مانسون اجلاس کے تیسرے دن سماجوادی پارٹی نے اسمبلی سے اس وقت واک آؤٹ کر دیا جب وزیر خزانہ سریش کھنہ نے پرانی پنشن کی بحالی کے سلسلے میں ریاست کے 20 لاکھ سے زیادہ ریاستی ملازمین کو پرانی پنشن دینے سے انکار کر دیا۔ اس سے سماج وادی پارٹی ناراض ہو گئی اور ایوان سے واک آؤٹ کر گئی۔
سریش کھنہ نے کہا کہ نئی پنشن ریاستی ملازمین کی تنظیموں کی رضامندی سے ہی لاگو کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نئی پنشن اسکیم میں 9.32 فیصد سے زائد سود مل رہا ہے اور یہ کہہ کر انہوں نے پرانی پنشن دینے سے انکار کر دیا۔ اس سے پہلے وقفہ سوالات (Question Hour) میں انیل پردھان، پنکج ملک اور جئے پرکاش آنچل نے ایس پی کی جانب سے حکومت سے سوال کیا اور جاننا چاہا کہ کیا پرانی پنشن حکومت ریاستی ملازمین پر لاگو کرے گی۔ نئی پنشن اسکیم پر سوال اٹھاتے ہوئے انیل پردھان نے کہا کہ یہ ملازمین کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن ملازمین کو 80 سے ایک لاکھ روپے تنخواہ ملتی تھی اب انہیں صرف 3 سے 4 ہزار روپے پنشن مل رہی ہے۔ اس موقع پر سماج وادی پارٹی کے پنکج ملک نے مظفر نگر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مظفر نگر کے رہنے والے رام داس کو ملازمت کے دوران 80 ہزار روپے تنخواہ ملتی تھی، لیکن اب انہیں صرف 3200 روپے پنشن مل رہی ہے۔
جب نئی پنشن اسکیم نافذ ہوئی تو کس کی حکومت تھی؟
وقفہ سوالات کے دوران ایس پی کی طرف سے اٹھائے گئے اس سوال پر وزیر خزانہ سریش کھنہ نے بھی ایس پی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب یہ پنشن اسکیم اپریل 2005 میں لاگو ہوئی تھی، اس وقت کس کی حکومت تھی؟ انہوں نے کہا کہ 2019 میں جب ملازمین کی تنظیموں سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا تھا کہ پلان ایسا ہونا چاہیے کہ ملازمین کو کم از کم 8 فیصد سود ملے۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے سریش کھنہ نے کہا کہ نئی پنشن کے تحت اب ملازمین کو 9.32 فیصد سود مل رہا ہے۔
اس کے بعد سریش کھنہ نے حکومت کی مالی حالت پر بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ تنخواہ کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومت کا 59.4 فیصد پنشن پر خرچ ہو رہا ہے۔ پھر انہوں نے ترقیاتی کاموں کے بارے میں کہا کہ پنشن اور تنخواہ کی مد میں اتنا خرچ کرنے کے بعد ترقیاتی کاموں کے لیے مزید فنڈز فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ سب کہنے کے بعد سریش کھنہ نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال حکومت کے پاس پرانی پنشن بحال کرنے کا کوئی خیال نہیں ہے۔
اسمبلی اسپیکر نے لی چٹکی
جیسے ہی وزیر خزانہ نے اپنی بات ختم کی اور پرانی پنشن بحال کرنے سے انکار کیا تو ایس پی کیمپ نے حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی اور غصے میں اسمبلی سے باہر چلے گئے۔ اس دوران جب ایس پی کے کچھ ممبران کو ایوان سے پوری طرح باہر نہ جانے پر اسمبلی اسپیکر ستیش مہانا نے طنز کرتے ہوئے کہا، ”فرضی ہی ایگزٹ کر رہے ہیں، پوری طرح سے باہر تو گئے نہیں۔”
بھارت ایکسپریس۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…