نئی دہلی : اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کو تیز کرنے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے تنظیمی سطح پر اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ اسی سلسلے میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ جمعہ کو لکھنؤ پہنچے، جہاں انہوں نے بی جے پی کی ریاستی مجلس عاملہ کے اجلاس کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، ریاستی بی جے پی صدر پنکج چودھری، ریاستی جنرل سکریٹری (تنظیم) دھرم پال سنگھ، ریاستی انچارج ونود تاوڑے، نائب وزرائے اعلیٰ کیشو پرساد موریہ اور برجیش پاٹھک سمیت کئی سینئر رہنما موجود رہے۔ تمام رہنماؤں نے چراغ روشن کرکے پروگرام کا آغاز کیا۔اس سے پہلے چودھری چرن سنگھ بین الاقوامی ہوائی اڈے پر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، بی جے پی کے ریاستی صدر پنکج چودھری اور دونوں نائب وزرائے اعلیٰ کیشو پرساد موریہ اور برجیش پاٹھک نے امت شاہ کا استقبال کیا۔ امت شاہ بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو آئندہ اسمبلی انتخابات کی حکمت عملی سے متعلق رہنمائی دیں گے۔ ان کی آمد سے پہلے ہی بی جے پی رہنماؤں اور کارکنوں میں خاصا جوش و خروش دیکھا گیا۔
2027 کے انتخابات کے لیے کارکنوں کو ملے گی نئی توانائی
ریاستی بی جے پی صدر پنکج چودھری نے کہا کہ امت شاہ کی رہنمائی سے پارٹی کارکنوں کو نئی توانائی ملے گی اور 2027 کا ہدف حاصل کرنے کے لیے تمام کارکن نئے جوش کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے کہا کہ نئی ریاستی تنظیم کی تشکیل کے بعد پنکج چودھری کی قیادت میں ریاستی مجلس عاملہ کا یہ پہلا اجلاس ہے۔ انہوں نے امت شاہ کو ایک ماہر سیاسی حکمت عملی ساز قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اتر پردیش میں کئی مہمات کی قیادت کی ہے اور ہر مرتبہ پارٹی کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پارٹی کے تمام کارکنوں کے لیے ایک سرپرست کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ ریاستی مجلس عاملہ کے اجلاس کا افتتاح کریں گے اور ریاست میں پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو نئی توانائی اور رہنمائی فراہم کریں گے۔انہوں نے سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سماج وادی پارٹی کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔ اتر پردیش کے عوام بی جے پی کے ساتھ ہیں اور پارٹی 2027 کے اسمبلی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔
بی جے پی رہنماؤں نے امت شاہ کی آمد پر کیا اظہارِ جوش
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ روی کشن نے امت شاہ کے دورے پر کہا کہ سیاست کے چانکیہ لکھنؤ آرہے ہیں اور کارکنوں میں زبردست جوش و خروش ہے۔ انہوں نے کہا کہ امت شاہ کے قدم بہت مبارک ہیں۔ بنگال انتخابات میں بھی وہ ان کے ساتھ تھے اور جہاں جہاں انہوں نے قدم رکھا، وہاں پارٹی کے حق میں ماحول بنا۔بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ششانک منی ترپاٹھی نے کہا کہ امت شاہ پارٹی کارکنوں کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کے لیے آرہے ہیں۔ کارکنوں کی محنت کی وجہ سے ہی پارٹی آج اس مقام تک پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے وژن کے مطابق 2027 تک ترقی یافتہ ہندوستان اور ترقی یافتہ اتر پردیش کے عزم کی شروعات آج سے ہوگی۔بی جے پی کے رکن اسمبلی شلبھ منی ترپاٹھی نے کہا کہ ریاست بھر سے آئے کارکنوں اور عہدیداروں کی موجودگی سے آڈیٹوریم پوری طرح بھر گیا ہے۔ یہ تمام کارکنوں کے لیے جوش اور خوشی کا موقع ہے۔وہیں وزیر جے ویر سنگھ نے کہا کہ تنظیمی نقطۂ نظر سے ریاستی مجلس عاملہ کا یہ ایک اہم اجلاس ہے، جس میں مرکزی وزیر داخلہ کی رہنمائی حاصل ہوگی۔بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے کہا کہ انتخابات قریب ہیں اور ایسے وقت میں امت شاہ کی رہنمائی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ آئندہ انتخابات میں ان کی حکمت عملی کا اثر نظر آئے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی 300 سے زیادہ نشستیں جیتنے کے ہدف کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔مرکزی وزیر ایس پی سنگھ بگھیل نے بھی کہا کہ امت شاہ کی آمد سے ریاستی مجلس عاملہ کے اجلاس کی اہمیت بڑھی ہے اور پارٹی مل کر ریاست میں دوبارہ حکومت بنانے کے لیے کام کرے گی۔ بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ پرکاش پال نے بھی ان کی آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے حق میں زبردست لہر بننے والی ہے۔
بوتھ سطح تک تنظیم کو مضبوط بنانے پر ہوگی بات چیت
بی جے پی کے تنظیمی اور انتخابی حکمت عملی ساز مانے جانے والے امت شاہ کا یہ دورہ 2027 کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اہم سمجھا جا رہا ہے۔ امکان ہے کہ وہ اس دوران پارٹی کی موجودہ تنظیمی صورت حال کا جائزہ لینے کے ساتھ بوتھ سطح تک کارکنوں کی سرگرمیاں بڑھانے، ان کی ذمہ داریاں طے کرنے اور انتخابی مہم کا خاکہ تیار کرنے کے سلسلے میں رہنمائی کریں گے۔اجلاس میں خاص طور پر سماج وادی پارٹی، کانگریس اور بہوجن سماج پارٹی کے مقابلے میں بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی پر تبادلہ خیال ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کے الزامات اور مسائل کا جواب دینے اور حکومت کی کامیابیوں کو عوام تک پہنچانے کے طریقوں پر بھی غور کیا جائے گا۔پارٹی کن مسائل اور پیغامات کے ساتھ عوام کے درمیان جائے گی، انتخابی مہم کی سمت کیا ہوگی اور کارکنوں کی ذمہ داریاں کس طرح طے کی جائیں گی، ان تمام امور پر بھی تبادلۂ خیال متوقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
ہیمنت بسوا سرما نے کہا کہ ہوٹلوں کے ان معروف برانڈز کی موجودگی سے گوہاٹی…
وزیر اعظم نے گجرات کے بناس کانٹھا میں ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد اور افتتاح…
بہار کے موکاما سے رکن اسمبلی اننت سنگھ کو سپریم کورٹ سے جھٹکا، عدالت نے…
تاریخ کی کتابوں میں اتر پردیش کے سنولی اور ہریانہ کے راکھی گڑھی میں ہونے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے ’بھارت بووائن بریڈنگ اینڈ ریسرچ سینٹر‘ کے مویشی فارم کا…
وزیر اعظم جمعہ کو گجرات کے ضلع بناس کانٹھا کے دورے پر ہیں، بھلڑی میں…