گجرات کے بناس کانٹھا میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کئی ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا اور ان کا افتتاح کیا۔ انہوں نے احمد آباد (سابرمتی)-وارانسی ایکسپریس اور مہسانہ-بیچراجی-سابرمتی میمو ٹرین خدمات کو بھی ہری جھنڈی دکھائی۔ اس دوران انہوں نے ایک بڑے عوامی جلسے سے بھی خطاب کیا۔ اپنے خطاب کے آغاز میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ آج ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک اور گجرات کا ہر کسان جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے پروگرام سے وابستہ تمام لوگوں کا استقبال کیا۔ جلسے کے ماحول کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ملک کے لوگوں کے لیے یہ بھی حیرت کی بات ہوگی کہ جلسے میں تمام لوگ چارپائیوں پر بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر گنیز ورلڈ ریکارڈز کو اس بارے میں بتایا ہوتا تو آج یقیناً اس کا ریکارڈ بن جاتا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ نوراتری کے چند ہی دن بعد ماں امبا کی پون سرزمین پر آنے کا موقع ملا ہے۔ میں ماں امبا کو سلام کرتا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ آج ہی وزیر اعظم کسان سمان ندھی کی نئی قسط کسانوں کے کھاتوں میں پہنچ گئی ہے اور اس کے لیے انہوں نے ملک کے کسانوں کو مبارک باد دی۔
کسان ترقی یافتہ ہندوستان کے مضبوط ترین ستونوں میں سے ایک
وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے کسان ترقی یافتہ ہندوستان کے مضبوط ترین ستونوں میں سے ایک ہیں۔ ہماری حکومت نے ہمیشہ کسانوں کو بااختیار بنانے کا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے لیے بجٹ پانچ گنا سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔ آج تقریباً 10 کروڑ کسانوں کے کھاتوں میں 18 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم بھیجی گئی ہے۔ گجرات کے 50 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو بھی اس کا فائدہ ملا ہے اور ان کے کھاتوں میں ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ جمع ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے کسانوں کو 50 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا فائدہ پہنچا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں پانچ اسکیموں کی مثالیں پیش کیں۔
پہلی اسکیم: پی ایم کسان سمان ندھی
پہلی اسکیم پی ایم کسان سمان ندھی ہے، جس کے تحت تقریباً 4.5 لاکھ کروڑ روپے براہ راست چھوٹے کسانوں کے بینک کھاتوں میں پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد کبھی ان چھوٹے کسانوں کی ضروریات کو نہیں سمجھا گیا تھا، جبکہ ملک میں چھوٹے کسانوں کی تعداد 85 فیصد سے زیادہ ہے۔ ہماری حکومت نے ایسے چھوٹے کسانوں کی فکر کی اور پی ایم کسان ندھی کے ذریعے انہیں مدد پہنچائی۔
دوسری اسکیم: کھاد پر سبسڈی
کھاد کے حوالے سے دوسری اہم بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں عالمی غیر یقینی صورت حال کے درمیان کھاد کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، لیکن کسانوں کے لیے وقف ہماری حکومت نے اس کا بوجھ کسانوں پر نہیں پڑنے دیا۔ حکومت نے اس پر تقریباً 16 لاکھ کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔
تیسری اسکیم: کم از کم امدادی قیمت
تیسری بات کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کے حوالے سے تھی۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ پہلے کی حکومتیں ایم ایس پی کے معاملے میں کسانوں کو صرف دھوکہ دے رہی تھیں، لیکن ہماری حکومت نے ایم ایس پی کا وعدہ پورا کیا ہے۔ گزشتہ 12 برسوں میں گیہوں اور دھان کے کسانوں کے کھاتوں میں ایم ایس پی کے طور پر 24 لاکھ کروڑ روپے پہنچے ہیں۔
چوتھی اسکیم: پی ایم فصل بیمہ یوجنا
چوتھی اسکیم پی ایم فصل بیمہ یوجنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے فصل بیمہ اسکیم کے ذریعے کسانوں کو تحفظ کی ایک بڑی ڈھال فراہم کی ہے۔ گزشتہ 12 برسوں میں فصل بیمہ کے لیے کسانوں کو دو لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ مل چکے ہیں۔
پانچویں اسکیم: آب پاشی اور پی ایم کُسُم یوجنا
پانچویں اسکیم آب پاشی سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مسلسل کوشش ہے کہ آب پاشی پر کسانوں کی لاگت کم ہو۔ پی ایم کُسُم یوجنا کے تحت اس لاگت کو کم کرنے کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ اس اسکیم کے تحت 12 لاکھ سولر پمپ دیے جاچکے ہیں۔ اگر یہ سولر پمپ نہ ملتے تو 800 کروڑ لیٹر سے زیادہ ڈیزل خریدنا پڑتا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ صرف ان پانچ اسکیموں کی وجہ سے ملک کے کسانوں کو 50 لاکھ کروڑ روپے کے برابر کی بچت بھی ہوئی ہے۔ ان 50 لاکھ کروڑ روپے سے ملک کے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیتی باڑی صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ہماری ثقافت بھی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ہیمنت بسوا سرما نے کہا کہ ہوٹلوں کے ان معروف برانڈز کی موجودگی سے گوہاٹی…
ریاستی بی جے پی صدر پنکج چودھری نے کہا کہ امت شاہ کی رہنمائی سے…
بہار کے موکاما سے رکن اسمبلی اننت سنگھ کو سپریم کورٹ سے جھٹکا، عدالت نے…
تاریخ کی کتابوں میں اتر پردیش کے سنولی اور ہریانہ کے راکھی گڑھی میں ہونے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے ’بھارت بووائن بریڈنگ اینڈ ریسرچ سینٹر‘ کے مویشی فارم کا…
وزیر اعظم جمعہ کو گجرات کے ضلع بناس کانٹھا کے دورے پر ہیں، بھلڑی میں…