قومی

Investment guidelines for China: وزیراعظم مودی کی قیادت میں مرکزی کابینہ کا اہم فیصلہ، چین سمیت سرحدی ممالک میں سرمایہ کاری کے لیے نئی گائڈلائن

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے چین سمیت بھارت سے زمینی سرحد رکھنے والے ممالک کی سرمایہ کاری سے متعلق ایف ڈی آئی پالیسی میں اہم تبدیلیوں کی منظوری دے دی ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق نئی پالیسی کے تحت اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کی منظوری کے لیے واضح مدت مقرر کی گئی ہے۔ پریس نوٹ 3 (PN3) کے تحت آنے والی سرمایہ کاری پر اب زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر فیصلہ کیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے کمپنیوں کو مشترکہ منصوبوں اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے لیے بہتر مواقع ملیں گے اور بھارت میں مینوفیکچرنگ کو فروغ ملے گا۔

اسٹارٹ اپ اور ڈیپ ٹیک شعبے کو فائدہ

پالیسی میں کی گئی تبدیلیوں کا مقصد عالمی فنڈز سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنا اور اسٹارٹ اپ اور ڈیپ ٹیک شعبوں کو مضبوط بنانا ہے۔ اس سے کاروبار کرنے میں آسانی کے حکومتی پروگرام کو بھی آگے بڑھایا جائے گا۔ نئی پالیسی کے تحت سرحدی ممالک کی سرمایہ کاری کے بعض منصوبوں کو تیزی سے منظوری دی جائے گی۔ ان میں الیکٹرانک پرزہ جات، کیپیٹل گڈز، الیکٹرانک آلات، پولی سیلیکن اور سولر سیل کی تیاری جیسے شعبے شامل ہیں۔ سرکاری بیان کے مطابق ان شعبوں میں سرمایہ کاری کی تجاویز کو 60 دن کے اندر نمٹانے کی کوشش کی جائے گی۔ پالیسی میں ’’بینیفیشل اونر‘‘ کی تعریف اور معیار بھی شامل کیا گیا ہے، جو پریوینشن آف منی لانڈرنگ رولز 2003 کے مطابق ہوگا۔ اس معیار کا اطلاق سرمایہ کار ادارے کی سطح پر کیا جائے گا۔ اگر کسی سرمایہ کار میں سرحدی ممالک کے بینیفیشل اونر کا حصہ 10 فیصد تک ہو اور وہ کنٹرولنگ حصہ نہ ہو، تو ایسی سرمایہ کاری کو خودکار راستے کے تحت اجازت دی جا سکتی ہے، بشرطیکہ متعلقہ قوانین کی پابندی کی جائے۔

2020 میں لگائی گئی تھیں سخت پابندیاں

واضح رہے کہ اپریل 2020 میں کووڈ-19 وبا کے دوران حکومت نے پریس نوٹ 3 جاری کر کے ایسی سرمایہ کاری کے لیے حکومتی منظوری لازمی قرار دی تھی جو بھارت سے زمینی سرحد رکھنے والے ممالک سے آتی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد اس بات کو روکنا تھا کہ مشکل معاشی حالات میں بیرونی کمپنیاں بھارتی کمپنیوں کو سستے داموں خرید نہ سکیں۔ حکومت کے مطابق نئی رہنما ہدایات سے بھارت میں سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہوگا، نئی ٹیکنالوجی تک رسائی بڑھے گی اور مقامی صنعتوں کی توسیع میں مدد ملے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے آتم نربھر بھارت کے ہدف کو تقویت ملے گی اور بھارت عالمی سپلائی چین میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کر سکے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Nasha Mukt Punjab Yatra: نشہ مکت پنجاب یاترا، 30 ستمبر کو جالندھر میں امت شاہ کریں گے اختتامی پروگرام سے خطاب

بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…

12 minutes ago

PK Party Announces Bihar MLC: پی کے کا بڑا قدم، نیرج کمار کے خلاف جن سوراج نے اتارا امیدوار، اننت سنگھ کی بھی حمایت

بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…

45 minutes ago

Mahua Moitra Files Complaint Against CEC: مہوا موئترا نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف درج کرائی پولیس شکایت

ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ نے انتخابی کمیشن کے فیصلوں میں طریقۂ کار کی…

3 hours ago

TMC Symbol Freez Case: ٹی ایم سی نام اور انتخابی نشان تنازع: سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے پوچھا، کتنے وقت میں ہوگا فیصلہ؟

ممتا بنرجی کی عرضی پر سماعت، عدالت نے الیکشن کمیشن سے دونوں فریقوں کے مفاد…

3 hours ago