قومی

Union Budget 2026, Middle Class Disappointment: مڈل کلاس کے ہاتھ خالی، شیئر سرمایہ کاروں کو جھٹکا… وہ امیدیں جو بجٹ سے ٹوٹ گئیں

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے یکم فروری کو مرکزی بجٹ پیش کر دیا۔ اس بار 53 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کا بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ اس بجٹ سے عام آدمی کو کافی امیدیں وابستہ تھیں۔ حکومت بھی اس بجٹ کو خواتین، کسانوں اور نوجوانوں پر مرکوز بتا رہی ہے، جس میں ہر ضلع میں خواتین کے لیے ہاسٹل قائم کرنے سے لے کر 5 یونیورسٹی ٹاؤن شپ کی ترقی کی بات کہی گئی ہے۔ بجٹ میں سنگین بیماریوں سے متعلق ادویات کی قیمتوں میں بھی کمی کی گئی ہے، تاکہ عام لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچ سکے۔اگرچہ اس بجٹ میں کئی شعبوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ آخر وہ کون سی امیدیں تھیں جو اس بجٹ سے ٹوٹ گئیں؟ آئیے جانتے ہیں…

کسانوں کا بھروسہ ٹوٹا

اس بجٹ سے کسانوں کو امید تھی کہ عالمی معیشت میں اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر فصلوں پر کم از کم امدادی قیمت (MSP) دی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کسانوں کو یہ بھی توقع تھی کہ بجٹ میں پی ایم کسان یوجنا کے لیے مختص رقم میں اضافہ کیا جائے گا، جس سے پی ایم کسان سمان ندھی کے تحت ملنے والی سالانہ 6 ہزار روپے کی رقم کو بڑھا کر 10 سے 12 ہزار روپے کیا جا سکتا ہے۔ تاہم بجٹ میں کسانوں کے لیے ایسی کوئی بڑی راحت سامنے نہیں آئی۔

انکم ٹیکس میں چھوٹ کی امید پوری نہ ہوئی

بجٹ 2026 سے ملازمت پیشہ افراد اور ٹیکس دہندگان کو انکم ٹیکس کی حد میں اضافے کی امید تھی۔ گزشتہ بجٹ میں وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے 12 لاکھ روپے تک کی سالانہ آمدنی کو ٹیکس فری کرنے کا اعلان کیا تھا۔ نوجوانوں کو امید تھی کہ اس بار اس حد کو بڑھا کر 13 سے 14 لاکھ روپے کر دیا جائے گا، لیکن حکومت نے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

شیئر بازار کے سرمایہ کاروں کو راحت نہیں ملی

اس بار کے بجٹ میں شیئر مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو بھی بڑا جھٹکا لگا ہے۔ ایف اینڈ او ٹریڈرز، یعنی کنٹریکٹ کے ذریعے سٹے بازی کرنے والے سرمایہ کاروں کے لیے حکومت نے ٹرانزیکشن چارجز میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ دیگر شعبوں میں کوئی خاص تبدیلی نہیں کی گئی۔ سرمایہ کاروں کو امید تھی کہ حکومت اس بار انہیں کچھ راحت دے گی، مگر ایسا نہیں ہوا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

34 seconds ago

Delhi HC Order: پی ایم مودی کے ساتھ اپنی مبینہ ڈیپ فیک تصویر سوشل میڈیا پر نشر ہونے والے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے دیا یہ حکم

عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…

1 hour ago

Sanjay Mishra Autobiography: ’میں زیادہ پڑھا لکھا نہیں، پھر بھی لکھوں گا…‘ نیشنل ایوارڈ یافتہ سنجے مشرا لا رہے ہیں اپنی خودنوشت

’ہم سیکھتے سیکھتے رہ گئے‘ کے ذریعے اداکار سنجے مشرا اپنے ذاتی تجربات، جدوجہد اور…

2 hours ago