ترواننت پورم (کیرالہ): مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے اتوار کے روز کہا کہ بی جے پی کا حتمی مقصد کیرالہ میں کنول کے انتخابی نشان کے تحت حکومت بنانا اور ریاست کو بی جے پی کا وزیراعلیٰ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کی کامیابی اس بڑے ہدف کی جانب ایک اہم سیڑھی ہے، نہ کہ آخری منزل۔
بلدیاتی نمائندوں سے خطاب
نومنتخب بلدیاتی اداروں کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے ترواننت پورم کے مقامی انتخابات میں بی جے پی کی جیت کو مستقبل کی بڑی کامیابیوں کی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کا مقصد صرف انتخابات جیتنا نہیں بلکہ کیرالہ کو مکمل طور پر ترقی یافتہ بنانا ہے۔
قوم مخالف طاقتوں کے خلاف تحفظ پر زور
امت شاہ نے کہا کہ بی جے پی اور این ڈی اے کا ہدف کیرالہ کو قوم مخالف طاقتوں سے محفوظ رکھنا اور اس روحانی طاقت اور عقیدے کی حفاظت کرنا ہے جو صدیوں سے کیرالہ کی شناخت کا حصہ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تینوں مقاصد ترقی، سلامتی اور عقیدے کا تحفظ صرف وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے ہی پورے کر سکتی ہے۔
ترقی یافتہ بھارت کا راستہ ترقی یافتہ کیرالہ سے
امت شاہ نے کہا کہ کیرالہ کے عوام بھی یہ سمجھتے ہیں کہ نہ تو کانگریس کی قیادت والا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (UDF) اور نہ ہی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت والا لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (LDF) ان اہداف کو حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’نریندر مودی نے 2047 تک بھارت کو ترقی یافتہ ملک بنانے کا خواب دیکھا ہے، اور میں آج کیرالہ کے عوام سے کہنا چاہتا ہوں کہ ترقی یافتہ بھارت کا راستہ ترقی یافتہ کیرالہ سے ہو کر گزرتا ہے۔‘‘
ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف پر تنقید
مرکزی وزیرداخلہ نے سی پی آئی (ایم) کی قیادت والی ایل ڈی ایف اور کانگریس کی قیادت والی یو ڈی ایف پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ دونوں کے درمیان ’میچ فکسنگ‘ نے کیرالہ کی ترقی کو روک دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود جمود کا شکار ہے اور اس صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ این ڈی اے ہے۔
این ڈی اے کو واحد متبادل قرار دیا
امت شاہ نے کہا کہ دنیا بھر میں کمیونسٹ پارٹیاں ختم ہو رہی ہیں اور کانگریس بھی ملک بھر میں کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اب کیرالہ کی ترقی کا واحد راستہ نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے ہے، جس کے لیے عوام کے درمیان عاجزی اور واضح وژن کے ساتھ جانا ضروری ہے۔
بلدیاتی انتخابات میں این ڈی اے کی پیش رفت
گزشتہ ماہ بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے نے ترواننت پورم میونسپل کارپوریشن میں تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایل ڈی ایف کے 40 سالہ اقتدار کا خاتمہ کیا۔ 101 وارڈز میں سے این ڈی اے نے 50، ایل ڈی ایف نے 29، یو ڈی ایف نے 19 نشستیں حاصل کیں جبکہ دو نشستیں آزاد امیدواروں کے حصے میں آئیں۔
ریاستی سیاست میں بدلتا منظرنامہ
این ڈی اے کی اس کامیابی کو کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ بی جے پی ریاست میں تیسری طاقت کے طور پر ابھر رہی ہے۔ گزشتہ سال بی جے پی کے سریش گوپی نے تھریسور لوک سبھا نشست جیت کر پارٹی کی پوزیشن مزید مضبوط کی تھی۔ ریاستی الیکشن کمیشن کے مطابق، گرام پنچایت انتخابات میں کانگریس کی قیادت والا یو ڈی ایف 941 میں سے 505 پنچایتوں میں آگے رہا، جبکہ ایل ڈی ایف کو صرف 340 میں برتری ملی۔ این ڈی اے نے 26 اور عام آدمی پارٹی (AAP) نے تین نشستیں حاصل کیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…