عالمی یومِ ماحولیات سے ایک دن قبل مرکزی وزیر برائے ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی بھوپندر یادو نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ راجستھان کے دو قدرتی مقامات کھچّن (Khichan)، ضلع پھلودی اور مینار (Menar)، ضلع ادے پور کو بین الاقوامی اہمیت کی حامل آبی گزرگاہوں یعنی رامسر سائٹس کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں لکھا ’’بین الاقوامی اہمیت کے حامل آبی مقامات کی فہرست میں دو نئے اضافے ہوئے ہیں… اس کے ساتھ ہی ہندوستان میں رامسر سائٹس کی تعداد 91 ہو گئی ہے۔ میں راجستھان اور پورے ملک کے عوام کو مبارکباد دیتا ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس پیش رفت پر اپنی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا ’’یہ خوشی کی خبر ہے! ہندوستان میں ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات عوامی شمولیت کے ساتھ بھرپور انداز میں جاری ہیں۔‘‘ کھچّن اور مینار کی رامسر سائٹس کے طور پر نامزدگی ہندوستان کی ماحولیاتی حکمت عملی میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے نہ صرف حیاتیاتی تنوع کا تحفظ ممکن ہوگا بلکہ مقامی معیشت اور عوامی شعور میں بھی بہتری آئے گی۔ وزیراعظم مودی کی جانب سے عوام کی شراکت کو سراہا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان ماحولیاتی تحفظ میں عوامی شرکت کو بنیاد بنا کر آگے بڑھ رہا ہے۔
رامسر کنونشن کیا ہے؟
رامسر کنونشن 1971 میں ایران کے شہر رامسر میں دستخط شدہ ایک بین الحکومتی معاہدہ ہے، جس کا مقصد دنیا بھر کی آبی گزرگاہوں کا تحفظ ہے۔ ان مقامات کو “Wetlands of International Importance” یعنی بین الاقوامی اہمیت کی حامل آبی گزرگاہیں تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ قدرتی ماحولیاتی نظام نہ صرف حیاتیاتی تنوع کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں بلکہ تازہ پانی کی فراہمی، خوراک، سیلاب سے تحفظ، زیرزمین پانی کی سطح میں بہتری اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں کمی جیسے اہم فوائد بھی فراہم کرتے ہیں۔
مینار واٹرلینڈ کمپلیکس: قدرتی ہم آہنگی کا مثالی نمونہ
مینار آبی علاقہ ادے پور کے قریب تین قدرتی تالابوں، برہماں تالاب، دھند تالاب اور کھیروڑا تالاب اور آس پاس کی زرعی زمین پر مشتمل ہے۔ برسات کے موسم میں یہ زرعی علاقے زیرِ آب آ جاتے ہیں، جو 110 اقسام کے آبی پرندوں کو مسکن مہیا کرتے ہیں، جن میں سے 67 مہاجر اقسام سے ہوتے ہیں۔ یہاں انتہائی نایاب وائٹ رمپڈ وَلچر اور لانگ بلڈ وَلچر جیسے پرندے بھی دیکھے گئے ہیں۔ کنونشن کے مطابق ’’یہ علاقہ راجستھان میں عوامی شراکت داری سے ہونے والے بہترین قدرتی تحفظاتی ماڈلز میں سے ایک ہے۔ مقامی دیہاتیوں نے غیر قانونی شکار اور ماہی گیری کی روک تھام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔‘‘
کھچّن ویٹ لینڈ: ریگستانی زندگی میں فطری بہار
وہیں راجستھان کے شمالی تھار ریگستان میں واقع کھچّن آبی علاقہ دو قدرتی آبی ذخائر راتری ندی اور وجے ساگر تالاب اور ان کے اطراف کے درختوں اور جھاڑیوں پر مشتمل ہے۔ یہاں خشک سالی برداشت کرنے والے پودے پائے جاتے ہیں، جو 150 سے زائد اقسام کے پرندوں کو مسکن فراہم کرتے ہیں۔ یہ علاقہ خاص طور پر سردیوں میں ہجرت کرنے والے Demoiselle Cranes (ہنسوں کی ایک نسل) کی بڑی تعداد کے لیے مشہور ہے، جن کی تعداد سالانہ 22,000 سے زائد ہوتی ہے۔ مقامی دیہاتی ان پرندوں کو بچانے کے لیے بجلی کی تاروں سے تصادم اور آوارہ کتوں کے حملوں جیسے خطرات کم کرنے میں سرگرم عمل ہیں۔ رامسر کنونشن کے مطابق ’’یہ علاقہ پرندوں کے شوقین افراد، سائنسدانوں، طلبا اور سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہے، بالخصوص ان ہنسوں کی سالانہ موجودگی کی وجہ سے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
چراغ پاسوان کی ایل جے پی (رام ولاس)، اپیندر کشواہا کی آر ایل ایم اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بنگال نشاۃ ثانیہ کے عظیم ستون اور معروف سماجی…
وراٹ کوہلی کو نمبر 3 سے ہٹانا اگرچہ ایک بڑا فیصلہ ہوگا۔ وراٹ کوہلی نے…
آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ شری کلکی دھام کی تعمیر کے لیے انہوں نے…
یوزڑ کو ہونے والی پریشانی کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے سرکاری شعبے کے…
اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے صرف 5 ماہ میں پیدا ہونے والا کچرا…