وزیر اعظم نریندر مودی
وزیرِ اعظم نریندر مودی کے تیسرے دورِ حکومت کا پہلا سال مکمل ہو چکا ہے اور اس مدتِ حکومت کا بنیادی پیغام ایک ہے کہ ’’قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا‘‘۔ 74 سالہ مودی نے انتخابات کے بعد واضح عوامی مینڈیٹ کے ساتھ ایسا سیکیورٹی نظریہ پیش کیا ہے جو نہ صرف جارحانہ ہے بلکہ نتیجہ خیز بھی۔
قومی سلامتی کے حوالے سے ’’واضح اسٹرٹیجک‘‘ کا دور
مودی کی قومی سلامتی کی پالیسی اب ’’اسٹریٹجک ریسٹرینٹ‘‘ (نرم رویہ) سے نکل کر ’’اسٹریٹجک کلیریٹی‘‘ (واضح حکمتِ عملی) کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس کا مظاہرہ پاکستان کے خلاف حالیہ آپریشن سندور، نکسلی تشدد کے خلاف کارروائیوں اور غیر قانونی امیگریشن پر سخت اقدامات کی صورت میں سامنے آیا۔ مودی حکومت کا اب یہ واضح پیغام ہے کہ ہندوستان کی سلامتی کے معاملے میں کوئی نرمی یا دوہرا رویہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
آپریشن سندور: قومی سلامتی کی نئی تعریف
مودی 3.0 کے سیکیورٹی نظریے کی بڑی کامیابی آپریشن سندور ہے۔ اس چار روزہ آپریشن میں ہندوستان نے پاکستان کے اندر 9 دہشت گرد ٹھکانوں اور 11 فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی مسلح ڈرونز، SCALP، ہامر میزائل، اور براہموس سپرسانک کروز میزائل کے ذریعے کی گئی۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ پہلی مرتبہ پاکستان کی فوج کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا، کیوں کہ اب ہندوستان کا موقف واضح ہے کہ دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والی فوج بھی اتنی ہی مجرم ہے جتنے کہ خود دہشت گرد۔
بھارتی حکام نے واضح طور پر کہا ہے کہ ’’پاکستان کے فوجی اثاثوں، ریڈار، ایئر ڈیفنس سسٹمز اور ایل او سی پر موجود چوکیاں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے نشانہ بنائی گئیں۔ اب یہ اصول طے ہو چکا ہے کہ جہاں دہشت گردی نشانہ ہو گی، وہاں پاکستان کی فوج بھی ہدف ہو گی۔‘‘ اس کے علاوہ ہندوستان نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کی جوہری دھمکیاں ناقابل قبول ہیں اور یک طرفہ خیر سگالی اب ماضی کی بات ہے۔
نکسلزم کے خلاف فیصلہ کن جنگ
مودی حکومت نے داخلی سلامتی کے محاذ پر بائیں بازو کی انتہا پسندی (نکسلزم) کو بھی جڑ سے ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور مارچ 2026 تک نکسلزم کے مکمل خاتمے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ایک وقت ہندوستان کے 182 اضلاع اور 40 فیصد رقبے پر اثر رکھنے والی نکسل تحریک اب محض 18 اضلاع تک محدود ہو ہے۔ حال ہی میں نکسلیوں کے سب سے خطرناک لیڈر نمبرالا کیشو راو عرف ’’باسو راجو‘‘ ایک 50 گھنٹے طویل آپریشن میں مارا گیا۔ وہ 150 سے زائد سیکورٹی اہلکاروں کے قتل کا ماسٹر مائنڈ تھا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کارروائی میں چھتیس گڑھ کے ضلع ریزرو گارڈ نے حصہ لیا، جن میں اکثریت ایسے سابق نکسل باغیوں کی تھی، جو اب جمہوریت کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہندوستان کی اس مہم کا چار نکاتی لائحہ عمل واضح ہے، یعنی جدید جنگی حکمتِ عملی، مسلسل آپریشنز، مالی و اسلحہ فراہمی کے ذرائع کی بندش اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے نکسلیوں کو قومی دھارے میں شامل کرنا۔
غیر قانونی امیگریشن کے خلاف تیز رفتار اقدامات
مودی حکومت نے غیر ملکیوں کی غیر قانونی موجودگی کو بھی قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے، حالیہ مہینوں میں 2,000 سے زائد بنگلہ دیشی باشندوں کو واپس بھیجا ہے۔ اس عمل میں دہلی، گجرات، مہاراشٹرا، آسام، میگھالیہ، ہریانہ اور راجستھان کی حکومتیں بھی مرکزی حکومت کے ساتھ ہیں۔ غیر قانونی افراد کی شناخت کے بعد انھیں فضائیہ کے ذریعے سرحدی کیمپوں میں منتقل کیا جاتا ہے اور چند گھنٹوں میں BSF کے ذریعے ان کی واپسی عمل میں لائی جاتی ہے۔
وزارت داخلہ اب ان افراد کے بایومیٹرک ڈیٹا جمع کر رہی ہے تاکہ انھیں آدھار کارڈ یا دیگر سہولیات سے محروم رکھا جا سکے اور دوبارہ غیر قانونی داخلے کو روکا جا سکے۔ تاہم بنگلہ دیش کی جانب سے اس پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ ڈھاکہ میں پریس کانفرنس کے دوران بنگلہ دیشی فوج کے افسر نے کہا کہ ’’Push-ins ناقابل قبول ہیں۔‘‘ لیکن اگر خود شہری کے ان کے بارڈر پر پہنچ جائیں تو تو بنگلہ دیش کے لیے انکار ممکن نہیں۔
واضح پیغام: قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں
مودی حکومت کی حالیہ پالیسیاں واضح کرتی ہیں کہ اب ہندوستان کی سلامتی سے متعلق کسی بھی اندرونی یا بیرونی خطرے پر نہ صرف سخت کارروائی ہو گی، بلکہ وہ کارروائی فوری اور بغیر تاخیر کے ہو گی۔ چاہے وہ دہشت گردوں کے کیمپ ہوں، نکسل باغی ہوں یا غیر قانونی تارکین وطن، اب سب کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی نافذ ہے۔ وزیر اعظم مودی کے تیسرے دور حکومت کا صرف پہلا سال یہ واضح کر چکا ہے کہ ہندوستان کی قومی سلامتی کی نئی تعریف لکھ دی گئی ہے اور تعریف نرم لہجوں سے نہیں، بلکہ حقیقت پسندانہ اور سخت گیر فیصلوں سے عبارت ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…