نئی دہلی : مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے اپنے 20 باغی لوک سبھا ارکان کے خلاف کارروائی تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق باغی ارکان کی نااہلی سے متعلق عرضیاں آئندہ 7 سے 10 دن کے اندر دائر کی جاسکتی ہیں۔ ٹی ایم سی کا کہنا ہے کہ اگر لوک سبھا اسپیکر اوم برلا مقررہ مدت میں ان عرضیوں پر فیصلہ نہیں کرتے تو پارٹی سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ٹی ایم سی کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کی بدھ کے روز اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ ابھیشیک بنرجی نے اسپیکر سے باغی ارکان کے خلاف دائر کی گئی الگ الگ نااہلی کی عرضیوں پر جلد فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
اسپیکر کے سامنے پہلے بھی اٹھایا جاچکا ہے معاملہ
پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق ابھیشیک بنرجی نے کہا تھا کہ اگر اسپیکر قانون اور عدالت کی ہدایات کے مطابق مقررہ مدت میں ان عرضیوں پر فیصلہ نہیں کر پاتے تو ٹی ایم سی کو سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے گا اور عدالت سے مداخلت کی درخواست کرنا ہوگی۔ٹی ایم سی نے پہلی بار جون میں لوک سبھا اسپیکر کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا تھا۔ پارٹی نے اس وقت 20 ارکان کو نااہل قرار دینے کے مطالبے کے ساتھ الگ الگ عرضیاں دائر کی تھیں۔ ابھیشیک بنرجی نے بتایا کہ 20 جولائی کو مانسون اجلاس شروع ہونے کے بعد بھی انہوں نے اسپیکر کے سامنے اس معاملے کو دوبارہ اٹھایا۔اس سلسلے میں ابھیشیک بنرجی نے ٹی ایم سی کے سینئر ارکان پارلیمنٹ سوگت رائے، کیرتی آزاد اور پرتیما منڈل کے ساتھ اسپیکر سے ملاقات کی تھی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ بار بار درخواست کے باوجود مانسون اجلاس کے دوران اس معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا اور اجلاس جمعرات کو ختم ہوگیا۔
ٹی ایم سی کی شکست کے بعد بغاوت
رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ٹی ایم سی کی شکست کے بعد 20 لوک سبھا ارکان نے پارٹی کے خلاف بغاوت کردی تھی۔ بعد میں باغی ارکان نے بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کی حمایت کرتے ہوئے ’نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا‘ (این سی پی آئی) میں انضمام کا اعلان کیا۔باغی گروپ میں سو دیپ بندیوپادھیائے، کاکولی گھوش دستیدار، شتابدی رائے اور متالی باغ جیسے سینئر لیڈر شامل ہیں۔ یہ تمام ارکان اصل میں ٹی ایم سی کے انتخابی نشان پر لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ باغی ارکان کا دعویٰ ہے کہ وہ ٹی ایم سی کے مجموعی 28 لوک سبھا ارکان میں سے دو تہائی سے زیادہ ہیں، اس لیے ان پر دل بدل قانون کے تحت نااہلی لاگو نہیں ہونی چاہیے۔
آئین میں کیا ہے شق؟
بھارتی آئین کی دسویں شیڈول میں پارٹی سے انحراف کی صورت میں نااہلی سے متعلق دفعات موجود ہیں۔ اس کے تحت اگر کسی سیاسی جماعت کے دو تہائی ارکان کسی دوسری سیاسی جماعت میں انضمام پر رضامند ہوں تو انہیں نااہلی سے استثنیٰ مل سکتا ہے۔تاہم ٹی ایم سی نے باغی ارکان کے اس مؤقف کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ صرف کسی دوسری جماعت کے ساتھ انضمام کا اعلان کردینے سے ارکان دل بدل کی کارروائی سے نہیں بچ سکتے۔ دسویں شیڈول کے تحت کسی رکن کو نااہل قرار دینے یا نہ دینے کا ابتدائی اختیار لوک سبھا اسپیکر کے پاس ہے۔
سپریم کورٹ کا کیا مؤقف ہے؟
سپریم کورٹ نے اپنے مختلف فیصلوں میں واضح کیا ہے کہ نااہلی کی عرضیوں پر فیصلہ کرتے وقت اسپیکر عدالتی یا ٹریبونل جیسے فرائض انجام دیتے ہیں اور ان کے فیصلے کا عدالتی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ نااہلی سے متعلق عرضیوں پر ابتدائی فیصلہ کرنے کے لیے اسپیکر ہی متعلقہ آئینی اتھارٹی ہیں، تاہم انہیں غیر جانب دار، آزادانہ اور بلاامتیاز طریقے سے اپنے اختیارات کا استعمال کرنا ہوگا۔اب ٹی ایم سی کی جانب سے 7 سے 10 دن کے اندر نئی قانونی کارروائی کی تیاری کے باعث 20 باغی ارکان پارلیمنٹ کی مشکلات بڑھنے کے امکانات ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81 ویں اجلاس کے دوران، وزیر…
گلیشنگ ضلع کے رمبی گاؤں میں دیر رات بڑا لینڈ سلائیڈ، 2 مکانات مکمل طور…
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے تمام ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کو بیک وقت تحریری…
انتخابی کمیشن کے اندر فیصلوں سے متعلق اختلافات کی رپورٹ کے بعد دونوں الیکشن کمشنر…
ملک کے کئی حصوں میں بارش اور تیز ہواؤں نے لوگوں کی مشکلات بڑھا دی…
اپوزیشن کی جانب سے نئے نوٹس کا مسودہ تیار، قانونی ماہرین سے کرائی جا رہی…