قومی

Savarkar insult Case: راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، عدالت عظمیٰ نے ساورکر معاملے میں کیس کو کردیا منسوخ

نئی دہلی: ونایک دامودرساورکرکی مبینہ توہین سے متعلق معاملے میں کانگریس لیڈرراہل گاندھی کوسپریم کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ سپریم کورٹ نے لکھنؤکی نچلی عدالت کی جانب سے راہل گاندھی کے خلاف جاری کئے گئے سمن کومنسوخ کردیا ہے۔ عدالت نے یہ حکم اترپردیش حکومت کی جانب سے یہ بتائے جانے کے بعد دیا کہ راہل گاندھی کے خلاف مقدمہ چلانے کے لئے ضروری قانونی منظوری حکومت کی طرف سے نہیں دی گئی تھی۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

یہ معاملہ لکھنؤکے رہنے والے وکیل نریپیندرپانڈے کی جانب سے دائرشکایت سے متعلق ہے۔ درخواست میں راہل گاندھی کے خلاف آئی پی سی کی دفعات 153اے اور505 کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ شکایت کنندہ کے مطابق، 17 دسمبر2022 کومہاراشٹرکے اکولا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران راہل گاندھی نے ساورکرکوانگریزوں کا خادم اورپنشن لینے والا قرار دیا تھا۔ شکایت کنندہ کا الزام تھا کہ پریس کانفرنس میں صحافیوں کو پہلے سے تیارکردہ پرچے بھی تقسیم کئے گئے تھے۔ اس سے ظاہرہوتا ہے کہ یہ بیان پوری تیاری کے ساتھ دیا گیا تھا اوراس کا مقصد معاشرے میں نفرت پھیلانا تھا۔

پہلے ہائی کورٹ سے بھی نہیں ملی تھی راحت

اس معاملے میں لکھنؤکی ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (اے سی جے ایم) عدالت نے راہل گاندھی کوسمن جاری کیا تھا۔ اس کے خلاف راہل گاندھی نے الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا، لیکن 4 اپریل 2025 کو ہائی کورٹ کی لکھنؤبنچ نے سمن منسوخ کرنے سے انکارکردیا تھا۔ اس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔ سپریم کورٹ نے راہل گاندھی کوساورکرکے بارے میں دیئے گئے بیان پرسخت سرزنش کی تھی، تاہم انہیں عبوری راحت دیتے ہوئے اے سی جے ایم عدالت کی جانب سے جاری سمن پرروک لگا دی تھی۔ اب اترپردیش حکومت کے جواب کی بنیاد پرسپریم کورٹ نے راہل گاندھی کے خلاف جاری سمن کوہی منسوخ کردیا ہے۔

ساورکر کے بیان پر سپریم کورٹ نے لگائی تھی سخت پھٹکار

25 اپریل 2025 کوہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی دورکنی بنچ نے ساورکرکے بارے میں راہل گاندھی کے بیان پرسخت ناراضی ظاہرکی تھی۔ جسٹس دیپانکردتہ نے کہا تھا کہ راہل گاندھی کوآزادی کے مجاہدین کی تاریخ کے بارے میں مناسب معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ راہل گاندھی کی دادی نے ساورکرکی تعریف کرتے ہوئے انہیں خط لکھا تھا۔ اسی دوران عدالت نے مہاتما گاندھی کی جانب سے برطانوی وائس رائے کولکھے گئے ایک خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگرکوئی شخص کسی خط میں خود کو’آپ کا وفادار خادم‘ لکھ دے توکیا اس بنیاد پراسے بھی انگریزوں کا خادم کہا جا سکتا ہے؟

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

JAISHANKAR SLAMS PAKISTAN AT UN: ’ایک دہشت گرد ملک مجھ سے یہ سوال پوچھ رہا ہے…‘ UNGA میں ایس جے شنکر کا پاکستان پر دوٹوک جواب، ویڈیو وائرل

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81 ویں اجلاس کے دوران، وزیر…

12 minutes ago

Sikkim Rimbi Landslide: سکّم میں بارش کا قہر، ملبے کی زد میں گھر اور سڑکیں، 32 مکانات اب بھی خطرے میں

گلیشنگ ضلع کے رمبی گاؤں میں دیر رات بڑا لینڈ سلائیڈ، 2 مکانات مکمل طور…

14 minutes ago

CEC Gyanesh Kumar Dispute: انتخابی کمیشن کے وہ 2 افسر جنہوں نے فیصلوں پر اٹھائے سوال، جانیے سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کی پوری پروفائل

انتخابی کمیشن کے اندر فیصلوں سے متعلق اختلافات کی رپورٹ کے بعد دونوں الیکشن کمشنر…

1 hour ago