قومی

Tragic accident in Rajasthan school: راجستھان کے اسکول میں اندوہناک حادثہ، چھت گرنے سے 7 بچوں کی موت، درجنوں زخمی

جھالاواڑ: راجستھان کے ضلع جھالاواڑ کے منوہر تھانہ بلاک کے پیپلودی گاؤں میں جمعہ کی صبح ایک سرکاری پرائمری اسکول کی چھت گرنے کا اندوہناک واقعہ پیش آیا، جس میں کم از کم 7 بچوں کی موت ہو گئی، جب کہ درجنوں کے زخمی یا ملبے میں دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ حادثے کے وقت کمرے میں تقریباً 60 بچے موجود تھے۔

بچوں کو بچانے کی سبھی ممکنہ کوششیں جاری

مقامی افراد نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر بچوں کو بچانے کی کوششیں شروع کر دیں، جب کہ انتظامیہ نے فوری طور پر 4 جے سی بی مشینیں ملبہ ہٹانے کے لیے روانہ کیں۔ اب تک 8 بچوں کو زندہ ملبے سے نکال کر اسپتال میں داخل کرایا جا چکا ہے۔ شدید زخمیوں کو جھالاواڑ کے ضلعی اسپتال میں ریفر کیا گیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، اسکول کی عمارت خستہ حال اور پرانی تھی، جس کی مرمت کے لیے بارہا شکایتیں درج کرائی گئیں، لیکن انتظامیہ نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بچوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کیا گیا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ اشوک گہلوت نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔

لاپروائی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی

اسکول کی چھت گرنے کے سانحے پر راجستھان کے وزیر تعلیم مدن دلاؤر نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ وزیر نے ضلع کلکٹر سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے اور ریسکیو آپریشن میں تیزی لانے کی ہدایت دی ہے۔ مدن دلاؤر نے کہا کہ متاثرہ بچوں اور ان کے اہل خانہ کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔ اس حادثے کی اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جائے گی اور جو بھی ذمہ دار پایا جائے گا، اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسی لاپروائی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تعلیم محکمہ بچوں کی سلامتی کے تئیں پوری طرح سے پرعزم ہے۔

ریسکیو آپریشن جاری

پولیس، مقامی انتظامیہ اور طبی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور ریسکیو آپریشن پوری شدت سے جاری ہے۔ ضلع کلکٹر بھی جائے وقوعہ کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ پورے علاقے میں افسوس، غم اور بے بسی کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف سرکاری نظام کی لاپروائی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ بچوں کی حفاظت کے تئیں ہمارے رویے پر بھی سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔

راجستھان میں یہ تیسرا افسوسناک واقعہ

راجستھان میں اسکول انفراسٹرکچر کی بگڑتی حالت پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں کیونکہ فروری 2025 میں بی کانیر میں پانی کی ٹنکی کی چھت گرنے سے 3 بچوں کی موت ہو گئی تھی۔ باڑمیر کے چوہٹن میں اسکول کی دیوار گرنے سے ایک بچے کی موت ہوئی۔ یہ سلسلہ نہ صرف سرکاری لاپروائی کو بے نقاب کرتا ہے، بلکہ بچوں کی حفاظت کے تئیں عدم سنجیدگی پر بھی سوال کھڑے کرتا ہے۔ ماہرین تعلیم اور سماجی کارکنان کا مطالبہ ہے کہ اسکولوں کی حالت زار پر فوری توجہ دی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے حادثات کو روکا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

UP 34 IAS Officers Transfer: اتر پردیش میں بڑا انتظامی ردوبدل، 34 آئی اے ایس افسران کے تبادلے، 14 اضلاع کو ملے نئے ڈی ایم

اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…

3 hours ago

National Film Awards Ceremony: صدر جمہوریہ دروپدی مرمو ایکتا نگر پہنچیں، منگل کو 72ویں نیشنل فلم ایوارڈز تقریب میں ہوں گی شریک

صدر جمہوریہ مختلف زمروں کے فاتحین کو دیں گی قومی فلم ایوارڈ، تقریب میں بالی…

4 hours ago

Hanuman Ansh: رام للا کے درشن کے بعد جذباتی ہوئیں ’ہنومان انش‘ کی پروڈیوسر انوپریا ناگر، میڈیا پارٹنر ’بھارت ایکسپریس‘ کا ادا کیا شکریہ

فلم ’ہنومان انش‘ کی کامیابی کے بعد پروڈیوسر انوپریا ناگر ایودھیا پہنچیں، جہاں انہوں نے…

4 hours ago

Amaze Award 2026: بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اپیندر رائے کو امیز ایوارڈ 2026 سے نوازا جائے گا، کوی سمیلن اور مشاعرے کا ہوگا انعقاد

’ہندی میری جان 2026‘ کے دوسرے ایڈیشن میں 22 ستمبر کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر…

4 hours ago

Sonia Gandhi Electoral Roll Matter: سونیا گاندھی کے ووٹر لسٹ معاملے میں ریویژن پٹیشن منظور، 29 ستمبر کو ہوگی دوبارہ سماعت

راؤز ایونیو کورٹ کے پرانے حکم کو منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ عدالت بھیجا گیا،…

4 hours ago