نئی دہلی: آج سے ٹھیک 23 برس قبل، 15 دسمبر 2002 کا دن بھارتی سیاست کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر درج ہو گیا۔ یہی وہ دن تھا جب پہلی بار عوامی سیاست میں ’مودی میجک‘ کی اصطلاح سنجیدگی سے استعمال کی جانے لگی۔ گجرات اسمبلی انتخابات کے نتائج نے نہ صرف ریاست کی سیاسی سمت بدل دی بلکہ نریندر مودی کو ایک ایسے مضبوط عوامی لیڈر کے طور پر قائم کر دیا، جن کا اثر آگے چل کر قومی سیاست تک پہنچا۔ یہ دن آج بھی وزیر اعظم مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
نریندر مودی نے اکتوبر 2001 میں گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر ذمہ داری سنبھالی تھی۔ اس کے بعد دسمبر 2002 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات ان کے لیے پہلا بڑا عوامی امتحان تھا۔ سیاسی مبصرین، اپوزیشن جماعتیں اور یہاں تک کہ بعض حلقوں میں بی جے پی کے اندر بھی اس بات پر شکوک پائے جاتے تھے کہ آیا مودی عوامی مینڈیٹ حاصل کر پائیں گے یا نہیں۔ تاہم 15 دسمبر 2002 کو آنے والے نتائج نے تمام اندازوں کو غلط ثابت کر دیا۔ 182 رکنی گجرات اسمبلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریکارڈ 127 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ یہ محض سادہ اکثریت نہیں بلکہ زبردست عوامی اعتماد کا اظہار تھا۔ اس جیت کو اخبارات اور سیاسی تجزیہ نگاروں نے نریندر مودی کی قیادت پر عوام کی مہر قرار دیا۔ کانگریس کے لیے یہ نتیجہ شدید سیاسی دھچکا ثابت ہوا، جبکہ بی جے پی کے لیے یہ کامیابی اعتماد، استحکام اور مستقبل کی سیاست کی بنیاد بن گئی۔
نریندر مودی نے 2002 کا الیکشن احمد آباد کی منی نگر اسمبلی نشست سے لڑا اور بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ جیت کے بعد انہوں نے اس کامیابی کو گجرات کے تقریباً پانچ کروڑ عوام کے ’خودداری اور وقار کی جیت‘ قرار دیا۔ یہ بیان اس وقت کی سیاست کی علامت بن گیا، جس میں مودی نے خود کو صرف ایک منتظم نہیں بلکہ عوامی اعتماد کے نمائندہ لیڈر کے طور پر پیش کیا۔ سال 2002 کے انتخابی نتائج کے بعد نریندر مودی کی سیاسی شبیہ میں واضح تبدیلی دیکھنے کو ملی۔ وہ ایک مشکل دور سے گزرنے والے وزیر اعلیٰ سے نکل کر ایک مضبوط، فیصلہ کن اور وسیع عوامی حمایت رکھنے والے لیڈر کے طور پر ابھرے۔ گجرات میں بی جے پی کی گرفت مزید مضبوط ہوئی اور پارٹی نے یہ پیغام دے دیا کہ مودی کی قیادت میں وہ ریاست میں طویل عرصے تک اقتدار کا مرکز بنی رہ سکتی ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس انتخاب میں مجموعی طور پر 21 سیاسی جماعتوں اور متعدد آزاد امیدواروں نے حصہ لیا تھا، مگر اصل مقابلہ بی جے پی اور کانگریس کے درمیان ہی رہا۔ نتائج نے واضح کر دیا کہ قیادت کے سوال پر عوام نے بی جے پی اور نریندر مودی کو غیر معمولی برتری دی ہے۔ اس شاندار کامیابی کے بعد نریندر مودی نے دوسری بار گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 15 دسمبر 2002 صرف ایک انتخابی کامیابی کی تاریخ نہیں بلکہ نریندر مودی کے سیاسی سفر کا وہ سنگ میل ہے، جہاں سے ان کی شناخت ریاستی سیاست کی حدود سے نکل کر قومی سطح تک پہنچی۔ گجرات میں حاصل ہونے والا یہ عوامی مینڈیٹ آگے چل کر دہلی تک کے سفر کی بنیاد بنا۔ آج جب نریندر مودی مسلسل تیسری بار ملک کے وزیر اعظم ہیں، تو 15 دسمبر 2002 کو ’مودی میجک‘ کی پہلی جھلک کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جو بھارتی سیاست میں ایک نئے عہد کی شروعات تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو
کوسل مینڈس 99 رنز کے اسکور پر آؤٹ قرار دیے گئے تھے۔ 31ویں اوور میں…
آئی ایم ڈی کے مطابق، 25 ستمبر کو دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت…
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…