نئی دہلی: بھارتی کرنسی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے مسلسل کمزور ہوتا جا رہا ہے، جس سے مالیاتی منڈیوں میں تشویش کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ ہفتے کے پہلے کاروباری دن پیر کو انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران روپیہ 26 پیسے ٹوٹ کر 90.75 کی ریکارڈ نچلی سطح تک پہنچ گیا۔ اس سے قبل جمعہ کو بھی روپیہ 17 پیسے کی گراوٹ کے ساتھ 90.49 پر بند ہوا تھا۔ مسلسل کمزوری نے سرمایہ کاروں اور درآمد کنندگان کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے۔ انٹربینک فارن ایکسچینج مارکیٹ میں پیر کے روز روپیہ 90.53 پر کھلا، مگر کاروبار بڑھنے کے ساتھ ہی اس میں مزید دباؤ دیکھنے کو ملا اور یہ دن کے دوران 90.75 تک پھسل گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے پر دباؤ محض ایک دن کا نہیں بلکہ کئی اندرونی اور بیرونی عوامل کا نتیجہ ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں بھی نظر آ سکتے ہیں۔
فوریکس مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق روپے کی گراوٹ کی سب سے بڑی وجہ بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے پر غیر یقینی صورتحال ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے، مگر کسی حتمی نتیجے میں تاخیر کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی مسلسل فروخت نے بھی روپے کو کمزور کیا ہے، جبکہ درآمد کنندگان کی جانب سے ڈالر کی بڑھتی ہوئی طلب نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ فِن ریکس ٹریژری ایڈوائزرز ایل ایل پی کے ٹریژری ہیڈ انیل کمار بھنسالی کے مطابق روپے کے لیے اگلی اہم سپورٹ لیول 90.80 ہے۔ اگر یہ سطح ٹوٹتی ہے تو روپیہ 91 سے 92 کی حد کی طرف بھی جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں اس وقت عدم استحکام نمایاں ہے اور سرمایہ کار ہر پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
بھارتی ریزرو بینک کے کردار پر بات کریں تو ماہرین کا ماننا ہے کہ مرکزی بینک نے فی الحال مارکیٹ کو خود قیمت طے کرنے کی آزادی دے رکھی ہے۔ آر بی آئی صرف انتہائی اتار چڑھاؤ کی صورت میں مداخلت کر رہا ہے، جس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ وہ روپے کی قدر پر نظر تو رکھے ہوئے ہے، مگر غیر ضروری مداخلت سے گریز کر رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے بھارت اور امریکہ کے درمیان دو روزہ اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے تھے، جن میں دو طرفہ تجارتی معاہدے سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان فون پر بات چیت بھی ہوئی، جس میں اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ ان خبروں سے بازار کو کچھ مثبت اشارے ضرور ملے ہیں۔
دوسری جانب ڈالر انڈیکس ہلکی گراوٹ کے ساتھ 98.37 پر رہا۔ گھریلو شیئر بازار میں بھی کمزوری دیکھی گئی، جہاں سینسیکس 51.77 پوائنٹس گر کر 85,215.89 اور نفٹی 31.30 پوائنٹس گر کر 26,015.65 پر بند ہوا۔ برینٹ کروڈ آئل 61.36 ڈالر فی بیرل پر رہا، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ایک دن میں 1,114.22 کروڑ روپے کے شیئر فروخت کیے۔ آر بی آئی کے مطابق 5 دسمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں بھارت کے زرمبادلہ ذخائر میں 1.033 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 687.26 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مضبوط زر مبادلہ ذخائر آنے والے وقت میں روپے کو کچھ حد تک سہارا فراہم کر سکتے ہیں، تاہم قلیل مدت میں چیلنجز برقرار رہنے کا امکان ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…