قومی

Abhishek Banerjee Criticism: ’سب کے ذمہ دار ابھیشیک…‘، ٹی ایم سی چھوڑتے ہی اس بڑے لیڈر نے ممتا بنرجی کے بھتیجے پر پھوڑا ٹھیکرا، خط لکھ کر گنوا دی خامیوں کی فہرست

مغربی بنگال کی سیاست ایک بار پھر گرما گرم ہو گئی ہے ۔  ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اقلیتی سیل کے ریاستی سکریٹری محمد اجمل صدیقی نے خود کو پارٹی سے مکمل طور پر دور کر لیا ہے ۔  انہوں نے نہ صرف اپنے عہدے سے بلکہ بنیادی رکنیت سے بھی استعفی دے دیا ہے ۔  ان کا یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پارٹی کے اندر قیادت اور تنظیمی ڈھانچے کے بارے میں پہلے ہی مختلف مباحثے ہو رہے ہیں ۔

ممتا بنرجی کو لکھے گئے اپنے تفصیلی خط میں صدیقی نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ اچانک نہیں بلکہ بہت سوچ سمجھ کر لیا گیا ہے ۔  پارٹی میں کام کرنے کے اپنے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے طویل عرصے تک پوری لگن اور محنت سے تنظیم کے لیے کام کیا ، لیکن اب صورتحال ایسی ہو گئی ہے کہ وہ خود کو اس نظام کا حصہ نہیں سمجھ پاتے ۔

صدیقی نے خاص طور پر پارٹی کے موجودہ ماحول اور کام کرنے کے انداز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ۔  ان کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں زمینی سطح پر کام کرنے والے کارکنوں کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے ۔  جن لوگوں نے برسوں سے پارٹی کے لیے سخت محنت کی انہیں نہ تو مناسب احترام دیا گیا اور نہ ہی فیصلہ سازی کے عمل میں ان کی کوئی خاص شمولیت تھی ۔

اپنے خط میں انہوں نے ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کے کام کرنے کے انداز پر بھی سوال اٹھایا ۔  صدیقی کے مطابق ، تنظیم میں فیصلہ سازی بہت زیادہ مرکزی ہو گئی ہے ، جس کی وجہ سے بوڑھے اور سرشار کارکن الگ تھلگ محسوس کر رہے ہیں ۔  انہوں نے لکھا کہ مواصلات اور مشورے کی کمی بہت سے کارکنوں میں مایوسی کا باعث بنی ہے ۔

تاہم اپنے استعفی خط میں صدیقی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ممتا بنرجی کی قیادت میں کام کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے ۔  انہوں نے پارٹی میں ملنے والے مواقع کے لیے بھی اظہار تشکر کیا ۔  لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ حالات میں ان کے لیے پارٹی کے ساتھ رہنا ممکن نہیں ہے۔

آخر میں، انہوں نے فوری طور پر اپنا استعفی قبول کرنے کی اپیل کی اور ممتا بنرجی اور ٹی ایم سی کو مستقبل کے لیے نیک خواہشات پیش کیں ۔  استعفی کو پارٹی کے اندر جاری اندرونی لڑائی کے ایک اور اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ، جس سے آنے والے دنوں میں سیاسی ردعمل پیدا ہونے کا امکان ہے ۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Third BIMSTEC Conference: بِمسٹیک کی روایتی طب، جینیاتی وسائل اور دانشورانہ املاک کے حقوق پر تیسری کانفرنس گوا میں شروع

بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…

10 hours ago

Bharat Express Urdu National Conclave: بزمِ صحافت: نئے بھارت کی بات، اردو کے ساتھ، بھارت ایکسپریس اردو  کا نیشنل کانکلیو

مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…

12 hours ago

Punjab Turban Row: پنجاب میں ’پگڑی‘ پر گھمسان تو یوپی میں کانگریس کی نئی بریگیڈ تیار! جانیے 5 ریاستوں کے انتخابات سے پہلے کیا ہے ہلچل؟

اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…

13 hours ago

Special Parliament Session: پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کی تیاری؟ حلقہ بندی اور خواتین کے ریزرویشن پر ہو سکتا ہے بڑا فیصلہ

پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…

14 hours ago