انٹرٹینمنٹ

Cheque Bounce Case: چیک باؤنس کیس، راجپال یادو کے پاس 1.15 کروڑ روپے، باقی 85 لاکھ جمع کرنے کے لیے سپریم کورٹ نے 13 اکتوبر تک دیا وقت

نئی دہلی: چیک باؤنس کے 7 مقدمات میں سزا کا سامنا کر رہے اداکار راجپال یادو کی عرضی پر بدھ کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے معاملے کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران راجپال یادو کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ 2 کروڑ روپے جمع کرنے کی شرط کے تحت 1 کروڑ 15 لاکھ روپے کا انتظام ہو چکا ہے، جبکہ باقی 85 لاکھ روپے جمع کرنے کے لیے ایک زمین کے خریدار سے بات ہوئی ہے۔راجپال یادو کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اداکار کی آبائی زمین کا ایک خریدار موجود ہے اور وہ 85 لاکھ روپے ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ خریدار اور زمین فروخت کرنے والے راجپال یادو، دونوں عدالت میں موجود ہیں۔ تاہم زمین کی رجسٹری کے سلسلے میں فی الحال دشواری پیش آ رہی ہے۔ وکیل کے مطابق پتر پکش چل رہا ہے اور خریدار فی الحال فروخت سے متعلق دستاویزات کی رجسٹری نہیں کرانا چاہتا۔ وہ نورتری شروع ہونے کے بعد رجسٹری کرانا چاہتا ہے۔

85 لاکھ روپے بطور ایڈوانس دینے کو تیار خریدار

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس کے باوجود خریدار 85 لاکھ روپے بطور ایڈوانس دینے کے لیے تیار ہے، تاکہ راجپال یادو کی جانب سے جمع کرائی جانے والی مجموعی رقم 2 کروڑ روپے تک پہنچ سکے۔ وکیل نے کہا کہ رجسٹری کی ضرورت کے مطابق یہ رقم ڈیمانڈ ڈرافٹ کے ذریعے بھی جمع کرائی جا سکتی ہے۔اس پر سپریم کورٹ نے باقی 85 لاکھ روپے آر ٹی جی ایس کے ذریعے جمع کرنے کے لیے 13 اکتوبر تک کا وقت دیا۔ عدالت نے کہا کہ رقم مقررہ مدت میں جمع کرائی جائے۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 2 ہفتے بعد ہوگی۔

سپریم کورٹ نے دیا تھا آخری موقع

 سپریم کورٹ نے گزشتہ سماعت میں راجپال یادو کو 2 کروڑ روپے جمع کرنے کا آخری موقع دیا تھا۔ عدالت اس سے قبل بھی ادائیگی میں تاخیر اور عدالتی احکامات پر مکمل طور پر عمل نہ کیے جانے پر ناراضی ظاہر کر چکی ہے۔یہ پورا معاملہ مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے متعلق 7 چیک باؤنس مقدمات سے جڑا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے ان مقدمات میں راجپال یادو کو قصوروار قرار دیتے ہوئے ہر معاملے میں 3 ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ تمام سزاؤں کو ایک ساتھ چلانے کا حکم دیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کو راجپال یادو اور ان کی اہلیہ رادھا یادو نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔اسی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کیا اور راجپال یادو کو رقم جمع کرنے کا آخری موقع دیا ہے۔

16 سال پہلے شروع ہوا تھا تنازع

اس تنازع کی شروعات تقریباً 16 سال پہلے ہوئی تھی۔ سال 2010 میں راجپال یادو نے بطور ہدایت کار اپنی فلم ’اتا پتا لاپتا‘ بنانے کے لیے مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے 5 کروڑ روپے کا قرض لیا تھا۔ فلم 2012 میں ریلیز ہوئی، لیکن باکس آفس پر کامیاب نہیں ہو سکی۔فلم کے ناکام ہونے کے بعد راجپال یادو کے لیے قرض کی رقم واپس کرنا مشکل ہوگیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ سود اور دیگر رقم بھی اس میں شامل ہوتی گئی اور یہ تنازع تقریباً 9 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔قرض چکانے کے لیے دیے گئے چیک باؤنس ہونے کے بعد معاملہ عدالت پہنچا۔ سال 2018 میں مجسٹریٹ عدالت نے راجپال یادو اور ان کی اہلیہ رادھا یادو کو معاملے میں قصوروار قرار دیا تھا۔ اس کے بعد کیس مختلف عدالتوں سے ہوتا ہوا دہلی ہائی کورٹ پہنچا۔ ہائی کورٹ نے بھی ساتوں مقدمات میں راجپال یادو کی سزا برقرار رکھی اور ہر معاملے میں 3 ماہ قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے شکایت کنندگان کو رقم واپس کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

25 years of PM Modi’s leadership: پی ایم مودی کی قیادت کے 25 سال بھارت کی تبدیلی اور بڑھتی امنگوں کی علامت: سی ایم نائیڈو

نائیڈو نے کہا، حکومت کی قیادت میں مودی کے 25 سال نے ان خوبیوں کو…

9 minutes ago

Amit Shah Congratulates PM Modi: وزیر اعظم نریندر مودی کو امت شاہ نے دی مبارکباد، کہا- کارکردگی کی سیاست کی مثال قائم کی

امت شاہ نے کہا کہ مودی جی نے کروڑوں ہم وطنوں میں خود اعتمادی پیدا…

1 hour ago

Prime Minister Narendra Modi: خدمت کا جذبہ دنیا کی سب سے بڑی نیکی ہے: وزیر اعظم مودی نے مہابھارت کا ایک شلوک کیا شیئر

وزیر اعظم کی جانب سے شیئر کیا گیا یہ سنسکرت شلوک مہابھارت کے شانتی پرب…

3 hours ago