کولکاتا: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اندر جاری سیاسی ہلچل کے درمیان پارٹی کو ایک اور بڑا جھٹکا لگا ہے۔ کولکاتا کے میئر اور ٹی ایم سی کے سینئر لیڈر فرہاد حکیم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ فرہاد حکیم کو طویل عرصے سے ممتا بنرجی کے قریبی ساتھیوں اور پارٹی کے اہم مسلم چہروں میں شمار کیا جاتا رہا ہے، اس لیے ان کا استعفیٰ سیاسی حلقوں میں غیرمعمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ٹی ایم سی کے سینئر لیڈر کنال گھوش نے تصدیق کی ہے کہ فرہاد حکیم نے میئر کے عہدے سے مستعفی ہونے کی درخواست کی تھی، جسے پارٹی سربراہ ممتا بنرجی نے منظور کر لیا ہے۔ ان کے مطابق حکیم نے پہلے بھی استعفیٰ دینے کی خواہش ظاہر کی تھی، تاہم اس وقت انہیں اپنا فیصلہ واپس لینے کے لیے کہا گیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے دوبارہ ممتا بنرجی سے اجازت طلب کی، جس کے بعد ان کی درخواست قبول کر لی گئی۔
اطلاعات کے مطابق فرہاد حکیم نے کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے امور میں پیش آنے والی مشکلات کو استعفے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ریاست میں سیاسی تبدیلی اور نئی حکومت کے قیام کے بعد بلدیاتی ادارے کے کام کاج میں متعدد رکاوٹیں سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث مؤثر انداز میں ذمہ داریاں نبھانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ترنمول کانگریس اندرونی اختلافات اور سیاسی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کولکاتا میونسپل کارپوریشن میں پارٹی سے وابستہ متعدد کونسلروں کے استعفے بھی منظر عام پر آئے ہیں، جس سے تنظیمی سطح پر دباؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
بدھ کے روز مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری کی صدارت میں منعقد ہونے والی ایک انتظامی جائزہ میٹنگ میں فرہاد حکیم کی موجودگی بھی سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بنی رہی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ سیاسی حالات کے تناظر میں ان کی سرگرمیوں پر خاص نظر رکھی جا رہی تھی اور ان کے استعفے نے مختلف قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی ہے۔ فرہاد حکیم 2018 سے کولکاتا کے میئر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ممتا بنرجی کی سابق حکومت میں کئی اہم محکموں کی ذمہ داریاں بھی سنبھال چکے ہیں۔ پارٹی کے اندر انہیں ایک بااثر اقلیتی لیڈر کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور شہری انتظامیہ میں ان کا کردار نمایاں رہا ہے۔
کولکاتا میونسپل کارپوریشن 2010 سے ترنمول کانگریس کے کنٹرول میں ہے، تاہم موجودہ سیاسی حالات کے باعث اس کے مستقبل کے حوالے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ فرہاد حکیم کے استعفے کے بعد اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کولکاتا کے نئے میئر کے طور پر کس شخصیت کا انتخاب کیا جائے گا۔ اگرچہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں ٹی ایم سی کی قیادت کو کئی اہم فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔ دوسری جانب پارٹی کے اندر بغاوت کی خبریں بھی شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق ترنمول کانگریس کے 80 میں سے 58 اراکینِ اسمبلی کے ایک گروپ نے بدھ کے روز باضابطہ طور پر معزول رکن اسمبلی رتبرتا بنرجی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اراکین نے رتبرتا بنرجی کو اسمبلی میں پارٹی کا نیا قائد تسلیم کرنے کے حق میں رائے دی ہے، جسے موجودہ قیادت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج تصور کیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص ہونے جا رہا…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی میں بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا تیسرا…
بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…
اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…
پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…