قومی

CJP Political Debate: سی جے پی نے میدان میں اتارے 3 نئے ’کاکروچ‘، کیا ابھیجیت دیپکے ’عآپ‘ کی بی ٹیم تیار کر رہے ہیں؟ سوشل میڈیا پر الزامات کی بھرمار

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت کی جانب سے مبینہ طور پر بے روزگار نوجوانوں کو ’کاکروچ‘ کہنے والے بیان کے خلاف شروع ہونے والی سوشل میڈیا مہم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) اب ایک منظم سیاسی محاذ کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ سی جے پی نے اپنے سرکاری ایکس (X) اکاؤنٹ ‘Cockroach Is Back’ کے ذریعے میڈیا اور عوام کے سامنے پارٹی کا مؤقف رکھنے کے لیے تین نئے ترجمانوں کی تقرری کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ان تقرریوں کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ آیا پردے کے پیچھے عام آدمی پارٹی (آپ) کی ایک نئی ’بی ٹیم‘ تیار کی جا رہی ہے۔

سوربھ داس بنے چیف ترجمان

سی جے پی نے تحقیقاتی صحافی سوربھ داس کو اپنا چیف ترجمان مقرر کیا ہے۔ پارٹی انہیں 2025 میں انڈیا گیٹ پر ہونے والی آلودگی مخالف تحریک کا اہم چہرہ قرار دے رہی ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ سوربھ داس کا جھکاؤ ماضی میں عام آدمی پارٹی کے مؤقف کی جانب رہا ہے۔ان پر ماضی میں ہندو مخالف تبصروں اور جے این یو کے متنازعہ حلقوں سمیت عمر خالد جیسے افراد کی حمایت کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی تقرری کے بعد پارٹی کی غیر جانب داری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

وجیتا دہیا اور آشوتوش رانکا بھی شامل

پارٹی کی دوسری ترجمان وجیتا دہیا کو محقق، مصنفہ اور علاقائی فلم ساز کے طور پر پیش کیا گیا ہے، لیکن سیاسی مبصرین کے ایک طبقے کا کہنا ہے کہ انہیں اروند کیجریوال اور عام آدمی پارٹی کا حامی سمجھا جاتا ہے۔دوسری جانب تیسرے ترجمان آشوتوش رانکا آئی آئی ٹی کانپور اور لندن اسکول آف اکنامکس کے سابق طالب علم ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ میکِنزی جیسی عالمی کمپنی میں کام کرنے کے بعد بھارت واپس آئے ہیں۔سوشل میڈیا پر یہ دعوے بھی گردش کر رہے ہیں کہ آشوتوش رانکا یوٹیوبر دھرو راٹھی کے لیے کانٹینٹ رائٹنگ کا کام کر چکے ہیں اور عام آدمی پارٹی کی نظریاتی سوچ سے متاثر رہے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

6 جون کو بھارت لوٹیں گے بانی ابھیجیت دیپکے

مہاراشٹر کے چھترپتی سمبھاجی نگر سے تعلق رکھنے والے اور اس وقت امریکہ میں مقیم سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے 6 جون 2026 کو بھارت واپس آ رہے ہیں۔ انہوں نے واپسی کے بعد دہلی کے جنتر منتر پر ایک بڑے پُرامن احتجاج کا اعلان کیا ہے، جس میں وہ وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کریں گے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق تعلیم اور بے روزگاری جیسے حساس موضوعات کو بنیاد بنا کر نوجوانوں کو متحرک کرنے کی حکمت عملی اور نئے ترجمانوں کے مبینہ سیاسی پس منظر نے اس بحث کو جنم دیا ہے کہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ محض ایک سوشل میڈیا مہم نہیں بلکہ مستقبل کی سیاست میں ایک نئے سیاسی پلیٹ فارم کے طور پر ابھرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Third BIMSTEC Conference: بِمسٹیک کی روایتی طب، جینیاتی وسائل اور دانشورانہ املاک کے حقوق پر تیسری کانفرنس گوا میں شروع

بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…

8 hours ago

Bharat Express Urdu National Conclave: بزمِ صحافت: نئے بھارت کی بات، اردو کے ساتھ، بھارت ایکسپریس اردو  کا نیشنل کانکلیو

مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…

10 hours ago

Punjab Turban Row: پنجاب میں ’پگڑی‘ پر گھمسان تو یوپی میں کانگریس کی نئی بریگیڈ تیار! جانیے 5 ریاستوں کے انتخابات سے پہلے کیا ہے ہلچل؟

اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…

11 hours ago

Special Parliament Session: پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کی تیاری؟ حلقہ بندی اور خواتین کے ریزرویشن پر ہو سکتا ہے بڑا فیصلہ

پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…

12 hours ago