قومی

West Bengal Elections 2026: ’’مغربی بنگال میں بلڈوزر سیاست کی کوئی جگہ نہیں…‘‘، انتظامی تبدیلیوں کے بعد رام نومی جلوس میں تشدد پر  ابھیشیک بنرجی نے کیا تشویش کا اظہار

کولکتہ: ترنمول کانگریس کے آل انڈیا جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی نے ہفتہ کے روزکہا کہ مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی بلڈوزر طرز کی سیاست کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اپنے ایکس ہینڈل پر بیان جاری کرتے ہوئے ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ ریاست میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیوں کے بعد جمعہ کے روز رام نومی جلوس کے دوران مرشد آباد ضلع کے رگھوناتھ گنج میں تشدد کے واقعات پیش آئے۔

انتظامی تبدیلیوں پر سوال

انہوں نے کہا کہ بی جے پی بنگال کی سرزمین پر اسی طرح کا ’بدلاؤ‘ نافذ کرنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق انتخابات کے اعلان کے فوراً بعد الیکشن کمیشن نے بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں کیں، جن میں چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری، ڈی جی پی، اے ڈی جی، آئی جی، ایس پی، ڈی ایم، کولکتہ پولیس کمشنر اور یہاں تک کہ کے ایم سی کمشنر کو بھی تبدیل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس غیر معمولی مداخلت سے نیت اور وقت پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔

دھمکیوں اور توڑ پھوڑ کا الزام

ابھیشیک بنرجی نے مزید کہا کہ ان تبدیلیوں کے بعد حالات مزید تشویشناک ہو گئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان تبدیلیوں کی آڑ میں دھمکیوں کے واقعات بڑھ رہے ہیں، دکانوں میں توڑ پھوڑ ہو رہی ہے اور مذہب کے نام پر کشیدگی پیدا کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ’بلڈوزر ماڈل‘ یا نفرت کی سیاست کی ضرورت نہیں ہے۔

بنگال کی مشترکہ ثقافت پر زور

ترنمول کانگریس لیڈر کے مطابق مغربی بنگال کی شناخت اس کی مشترکہ ثقافت اور باہمی احترام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں برسوں سے مختلف مذاہب کے تہوار مل جل کر منائے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی نسلوں سے بنگال میں درگا پوجا، دیوالی، پوئیلا بوئشاک، عید، گرو نانک جینتی، بدھ پورنیما اور کرسمس بغیر کسی خوف یا تشدد کے منائے جاتے رہے ہیں، مگر حالیہ دنوں میں حالات بدلتے نظر آ رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن اور بی جے پی پر تنقید

بنرجی نے کہا کہ رابندر ناتھ ٹیگور اور سوامی وویکانند کی سرزمین ہمیشہ سے رواداری، ہم آہنگی اور بقائے باہمی کی علامت رہی ہے۔ کئی دہائیوں سے بنگال تنوع میں اتحاد کی زندہ مثال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سیاست سے کسی کو فائدہ نہیں ہونا چاہیے۔ آج ریاست کا سماجی ڈھانچہ دباؤ میں نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس صورتحال سے کس کو فائدہ ہو رہا ہے اور بنگال کے عوام کو اس کی کتنی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ آخر میں انہوں نے الیکشن کمیشن اور بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Deendayal Upadhyaya Jayanti: دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر وزیر اعظم نریندر مودی کا پیغام، کہا- ’انتودیہ ہی قوم کی تعمیر کی بنیاد ہے‘

وزیر اعظم نریندر مودی نے پنڈت دین دیال اپادھیائے کو خراجِ عقیدت پیش کیا، کہا-…

22 minutes ago

US Navy Uses Laser Weapons: گیمنگ کنٹرولر سے تباہ ہوں گے ایرانی ڈرون! آبنائے ہرمز میں امریکہ نے تعینات کیے ’غیر مرئی‘ لیزر ہتھیار

امریکی فوج ہائی انرجی لیزر ٹیکنالوجی کو حقیقی آپریشنز میں استعمال کر رہی ہے، ڈرونز…

32 minutes ago

Accidents on the Yamuna Expressway: آخر یمنا ایکسپریس وے کو حادثات کا ہائی وے کیوں کہا جاتا ہے؟

یمنا ایکسپریس وے پر مسلسل پیش آ رہے حادثات نے بڑھائی تشویش، گریٹر نوئیڈا میں…

1 hour ago

Akhilesh Yadav PDA Rath Yatra: رائے بریلی سے اکھلیش نے نکالی پی ڈی اے رتھ یاترا، سماج وادی پارٹی-کانگریس اتحاد کی تازہ صورتحال

2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے اکھلیش یادو نے کانگریس کے مضبوط علاقے…

2 hours ago