نئی دہلی: لوک سبھا میں 30 مارچ کو حکومت کی جانب سے ملک کو نکسل ازم سے پاک کرنے کی کوششوں پر اہم بحث ہونے جا رہی ہے، جس میں حالیہ پیش رفت اور حکمت عملی کا جائزہ لیا جائے گا۔ لوک سبھا کے بزنس لسٹ کے مطابق شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ شریکانت شندے قاعدہ 193 کے تحت مختصر دورانیے کی بحث کا آغاز کریں گے، جس میں نکسل ازم کے خاتمے کے اقدامات زیر غور آئیں گے۔
حکومت کا واضح ہدف
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کئی بار اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ حکومت 31 مارچ 2026 تک ملک کو نکسل ازم سے پاک کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت نے اس مقصد کے لیے سکیورٹی آپریشنز کے ساتھ ساتھ بحالی (rehabilitation) کی پالیسی پر بھی زور دیا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران کئی بڑے ماؤ نواز رہنماؤں نے ہتھیار ڈال کر مرکزی دھارے میں واپسی اختیار کی ہے۔ حال ہی میں انتہائی مطلوب نکسل لیڈر سکرو نے چار ساتھیوں کے ساتھ اوڈیشہ پولیس کے سامنے خودسپردگی کی۔
سکیورٹی آپریشنز میں تیزی
اینٹی نکسل آپریشنز کے افسر سنجیو پانڈا کے مطابق اب کچھ علاقوں میں نکسل عناصر کی تعداد انتہائی کم رہ گئی ہے۔ انہوں نے باقی ماندہ افراد سے بھی ہتھیار ڈالنے کی اپیل کی ہے اور یقین دلایا ہے کہ انہیں حکومتی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ چھتیس گڑھ کے بستر علاقے، جو کبھی نکسل تحریک کا مرکز سمجھا جاتا تھا، وہاں بھی اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ سینئر افسر پی سندرراج نے بتایا کہ کئی اہم ماؤ نواز کمانڈروں کی خودسپردگی کے بعد تنظیم عملاً قیادت سے محروم ہو چکی ہے۔ لوک سبھا میں ہونے والی یہ بحث ملک میں داخلی سلامتی کے ایک اہم مسئلے پر حکومت کی سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔ نکسل ازم کے خلاف سکیورٹی کارروائیوں کے ساتھ بحالی کی پالیسی نے مثبت نتائج دیے ہیں، اور اگر یہی رفتار برقرار رہی تو حکومت اپنے مقررہ ہدف کے قریب پہنچ سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…
اتر پردیش اور بہار سمیت 17 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر…
دہلی پولیس کی ڈی سی پی پی آر او نیہا یادو نے بتایا کہ این…
موبائل پر کال آتے ہی دکھائی دے گا کال کرنے والے کا نام، نئے نظام…
547 مقدمات درج، 182 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات ضبط ہوئی ہیں اور منشیات…
راہل گاندھی کی حامی نیہا بورا نے کہا کہ ’بنگلہ دیش نے ہمیں ایک راستہ…