نئی دہلی — انڈین نیشنل کانگریس کے جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے کہا ہے کہ پارلیمانی مستقل کمیٹی برائے تعلیم نے اپنی تازہ رپورٹ میں نجی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پسماندہ طبقات کے لیے لازمی ریزرویشن کی سفارش کی ہے۔
رپورٹ میں آئینی اور عدالتی بنیاد
رپورٹ کے مطابق آرٹیکل 15(5) کے تحت حکومت نجی اداروں میں ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی طلبہ کے لیے ریزرویشن نافذ کر سکتی ہے، اور اس کی آئینی حیثیت سپریم کورٹ کے 2014 کے فیصلے میں تسلیم کی جا چکی ہے۔
اعداد و شمار میں کمی کا انکشاف
کمیٹی نے تین ممتاز نجی اداروں کے طلبہ کی ساخت کا جائزہ لیا جس میں پایا گیا کہ ایس سی طلبہ 0.89 فیصد، ایس ٹی طلبہ 0.53فیصد اور او بی سی طلبہ محض 11.16 فیصد ہیں۔ یہ اعداد و شمار مساوی تعلیمی مواقع کی فراہمی کے لیے ناکافی قرار دیے گئے۔
سفارشات اور سیاسی پس منظر
کمیٹی نے سفارش کی کہ پارلیمنٹ قانون کے ذریعے ایس سی کے لیے 15فیصد، ایس ٹی کے لیے 7.5 فیصد اور او بی سی کے لیے 27 فیصد ریزرویشن لازمی کرے۔ یہ مطالبہ کانگریس کے 2024 کے انتخابات میں کیے گئے وعدے اور بھارت جوڑو نیائے یاترا کے ایجنڈے سے ہم آہنگ ہے۔
فیصلہ حکومت کے سپرد
جے رام رمیش کے مطابق اب یہ فیصلہ مودی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ اس سفارش کو قانون میں ڈھالتی ہے یا نہیں۔ کمیٹی کی رپورٹ نے اس اقدام کی آئینی بنیاد اور ضرورت دونوں کو مضبوط کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…