قومی

BJP wants to topple state governments: ’’بی جے پی آئینی ترمیم کے ذریعے سی بی آئی اور ای ڈی سے ریاستی حکومتیں گرانا چاہتی ہے‘‘ — ٹی ایم سی کا الزام

نئی دہلی — ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی آئینی ترمیم کے ذریعے سی بی آئی اور ای ڈی کا سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر کے ریاستی حکومتیں گرانے کا راستہ ہموار کر رہی ہے۔

ساکیت گوکھلے کا الزام

ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ ساکیت گوکھلے نے کہا: ’’جب ووٹ چوری کے الزامات سامنے آئے ہیں تو مودی-شاہ نئے ہتھکنڈے آزما رہے ہیں۔ آج لائے جانے والے بل کے ذریعے سی بی آئی اور ای ڈی کو بی جے پی کے حق میں ریاستی حکومتیں گرانے کی اجازت مل جائے گی۔‘‘ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی وزیر اعلیٰ یا وزیر کو صرف الزام کی بنیاد پر ہٹانا غیر آئینی ہے کیونکہ جرم کا فیصلہ صرف عدالت کرسکتی ہے۔

متنازع بل کون سے ہیں؟

مرکزی حکومت پارلیمنٹ میں درج ذیل تین بل پیش کر رہی ہے: مرکز کے زیر انتظام ریاست حکومت (ترمیم) بل 2025، دستور (130ویں ترمیم) بل 2025 اور جموں و کشمیر تشکیل نو (ترمیم) بل 2025۔ ان بلوں کی وجہ سے  لوک سبھا میں بدھ کی دوپہر آئین (130ویں ترمیم) بل 2025 کی پیشی پر گزشتہ ایک دہائی میں نہ دیکھے گئے ہنگامہ خیز مناظر دیکھنے کو ملے۔ یہ بل ایسے کسی بھی مرکزی یا ریاستی وزیر کو برطرف کرنے کی تجویز دیتا ہے جو بدعنوانی یا سنگین جرائم کے الزامات کا سامنا کر رہا ہو اور کم از کم 30 دن تک حراست میں رہا ہو۔ لوک سبھا میں آج مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے تین اہم بل پیش کیے جن میں یہ شق شامل ہے کہ اگر کسی وزیر، وزیراعلیٰ، مرکزی وزیر یا وزیراعظم پر سنگین جرم کے الزامات کے تحت مسلسل 30 دن تک جیل میں رہنا پڑے تو 31ویں دن انہیں اپنے عہدے سے دستبردار ہونا پڑے گا۔

دیگر ٹی ایم سی رہنماؤں کا ردعمل

مہوا موئترا نے کہا کہ یہ بل وفاقی ڈھانچے اور عدلیہ کو نظر انداز کرتا ہے اور صرف 240 ارکان کی حمایت سے آئین میں تبدیلی بی جے پی کا خطرناک قدم ہے۔ سگاریکا گھوش کے مطابق، یہ بل جمہوریت اور وفاقیت کے خلاف ہے اور سیاسی طاقت کے ناجائز استعمال کا ہتھیار بن سکتا ہے۔

آئینی اور سیاسی بحث کی تیاری

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 30 دن کی گرفتاری کی صورت میں وزرا کو معطل کرنے کی شق سے آئینی اور سیاسی مباحث میں شدت آ سکتی ہے۔ یہ تینوں بل ملک کے آئینی ڈھانچے اور وفاقی نظام پر اثرانداز ہونے کے باعث اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن ارکان نے بل کو جمہوری اور آئینی اصولوں کے خلاف قرار دیا اور سخت مخالفت کا اعلان کیا۔ اب یہ تینوں بل جے پی سی کے زیر غور آئیں گے، جہاں ممکنہ ترامیم یا سفارشات دی جا سکتی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

9 hours ago

British Airways Emergency: برٹش ایئرویز کی پرواز میں اچانک ایمرجنسی، 37 ہزار سے 9 ہزار فٹ تک نیچے آیا بوئنگ 777، لندن ڈائیورٹ

لندن ہیتھرو سے شکاگو جا رہی برٹش ایئرویز کی BA295 پرواز نے آئرلینڈ کے اوپر…

9 hours ago

Lucknow Floods: لکھنؤ میں سیلاب کا مستقل حل، فیض اللہ گنج سے نیمیش تک گرین کوریڈور کی طرز پر بنے گا پشتہ، سی ایم یوگی نے کیا بڑا اعلان

گومتی میں بڑھتی آبی سطح اور حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ یوگی…

10 hours ago

EC Fact-Checks Rahul Gandhi’s Claim: راہل گاندھی کے الزام پر الیکشن کمیشن کا فیکٹ چیک، فارم-6 میں تبدیلی کے دعوے کو بتایا گمراہ کن، جانیں کیا کہا؟

راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر فارم-6 میں غیر قانونی اور یکطرفہ…

10 hours ago