نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان (این سی پی یوایل) کے زیراہتمام عالمی اردوکانفرنس بہ عنوان ’’کثیرلسانی ہندوستان میں اردوزبان وتہذیب‘‘ کے موضوع پرانڈیا انٹرنیشنل سینٹر، نئی دہلی میں آج تین تکنیکی سیشن منعقد ہوئے۔ پہلے تکنیکی سیشن میں بہ حیثیت صدورپروفیسرامتیازحسنین اورپروفیسرچندرشیکھرشامل ہوئے، جبکہ جانکی پرساد شرما، پروفیسرمحمد قطب الدین، پروفیسررضوان احمد، ڈاکٹرکے پی شمس الدین اورفیروزبخت احمد بحیثیت مقالہ نگارشریک ہوئے۔ اس سیشن کی نظامت ڈاکٹرعبدالرزاق زیادی نے کی۔
پروفیسرامتیازحسنین نے اپنی صدارتی تقریرمیں کہا کہ جنون نے ہی اردوکوکوسموپولیٹن زبان بنایا۔ اردونے دیگرزبانوں پراپنے اثرات مرتب کیے اوران کے مصنّفین نے دیگرزبانوں اور تہذیبوں کوبھی متاثرکیا۔ بالخصوص شبلی کی ’شعرالعجم‘ اورسید سلیمان ندوی کی تصانیف گہرے طورپراثراندازہوئیں۔ انھوں نے سیشن کے تمام مقالوں پرگفتگوکرتے ہوئے خوشی کا اظہارکیا اورترجمہ پرزوردیتے ہوئے اس کوموجودہ وقت کی اہم ضرورت قراردیا۔ پروفیسرچندرشیکھرنے صدارتی تقریرمیں زبان وادب کے مابین رشتے پرگفتگوکی۔ انھوں نے کہا کہ عوامی زبان ادب سے مقبول نہیں ہوتی ہے۔ زبان کہیں بھی جائے وہ اپنی صورت میں زندہ رہتی ہے۔ مثلاً ایک ہندوستانی مزدورکسی دوسرے ملک میں جائے تو وہ اپنی عام بول چال میں مادری زبان کا استعمال کرتا ہے۔ اردوزبان کی تعلق سے انھوں نے کہا کہ جب تک اس زبان کے بولنے والے خواہ وہ کسی مذہب کے ہوں، موجود ہیں تب تک یہ زبان زندہ رہے گی۔ جانکی پرساد شرما نے ’اردو اور ہندی: باہمی اثرپذیری اوراثرانگیزی‘ پرگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی کسی بھی زبان کا رسم الخط اپنے آپ میں مکمل نہیں ہے۔ اس بابت انھوں نے زبانوں کے باہمی رشتوں پردلائل کے ساتھ گفتگوکی۔ اردواورہندی زبانوں کے بارے میں کہا کہ انھوں نے ایک دوسرے کے الفاظ کوکثیرتعداد میں اپنی زبان کا حصہ بنایا ہے۔
پروفیسرمحمد قطب الدین نے ’اردوزبان وادب کی توسیع واشاعت میں تراجم کا حصہ‘ کے موضوع پرعربی ادب کے تراجم کے حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے اردوزبان کے اسلوب اورتراکیب والفاظ کو بہت تقویت حاصل ہوئی۔ عربی سے آنے والے الفاظ و محارات اردومیں بہت مقبول ہوئے ہیں۔ پروفیسررضوان احمد نے ’قطرکی علاقائی زبانوں پراردوکے اثرات‘ کی صورت حال پرنہایت اہم گفتگوکی۔ اس موقع پرانھوں نے ہندوستان اورعرب ممالک میں تہذیب و ثقافت اورعام بول چال میں مروج الفاظ کے استعمال کے تعلق سے مفید باتیں بتائیں۔ کے۔ پی۔ شمس الدین نے ‘کیرلہ میں اردو زبان و ادب’کے موضوع پر پرمغز مقالہ پیش کیا۔ جناب فیروزاحمد نے ’لداخ کی علاقائی زبانوں پراردوزبان وادب کے اثرات‘ کے موضوع پر مقالہ پیش کیا۔
کلاسیکی اورادبی تہذیب کے لحاظ سے اردو-فارسی کا رشتہ بہت قریب: پروفیسراحمد محفوظ
دوسرے تکنیکی سیشن کی صدارت پروفیسرمظفرعلی شہ میری نے کی۔ جبکہ مقالہ نگاران میں پروفیسراحمد محفوظ، پروفیسراخلاق احمد آہن، پروفیسروبھا شرما، ڈاکٹرنسیم احمد نسیم، مامیاکینساکوشامل ہوئے۔ اس سیشن کی نظامت مالک اشترنے کی۔ پروفیسرمظفرعلی شہ میری نے صدارتی تقریر پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کا موضوع بہت اہم ہے اس کے لیے میں قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹرڈاکٹرشمس اقبال اوردیگرعملے کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انھوں نے تمام مقالہ نگاروں کے مقالوں پرتفصیلی گفتگو کی۔ انھوں نے اردو تہذیب کے حوالے سے کہا کہ موجودہ دور میں تہذیب دراصل ٹیکنالوجی اورمشینوں کے ذریعے سمجھنے کا نام ہے۔ پروفیسر احمد محفوظ نے’کلاسیکی اردو شاعری پرفارسی کے اثرات‘ کے موضوع پرگفتگوکرتے ہوئے کہا کہ بیشک فارسی زبان اردو سے بہت الگ ہے، لیکن کلاسیکی اورادبی تہذیب کے لحاظ سے دونوں کا رشتہ بہت قریبی ہے۔ پروفیسر اخلاق احمد آہن نے ’کثیرلسانی ہندوستان میں فارسی اور اردو کے ادبی و تہذیبی رشتے‘ کے موضوع پرگفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں فارسی کے اثرات دوسری زبانوں میں بھی کثرت سے نظرآتے ہیں۔
اردو-انگریزی کا موازنہ کیا جاسکتا ہے: پروفیسر وبھا شرما
پروفیسروبھا شرما نے کہا کہ اردوانگریزی ہی کی طرح ایک انکلوزیولینگویج ہے۔ اس کا موازنہ انگریزی سےہی کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹرنسیم احمد نسیم نے اردواوربھوجپوری کے رشتے پر پرمغزگفتگوکی۔ جاپان سے تشریف لائے مامیاکینسا نے اردواورہندی کے رشتے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جاپان میں اردو کےعلاوہ ہندی زبان بھی سیکھی ہے۔ انھوں نے اپنے مقالے میں رسم الخط کے حوالے سے بھی اہم نکات پیش کئے۔ تیسرے سیشن کے صدرپروفیسرانیس الرحمن نے مقالہ نگاران کے مقالوں کے تعلق سے گفتگوکرتے ہوئے اہم نکات کی نشاندہی کی۔ انھوں نے کہا کہ تقابلی مطالعات کے پیرامیٹرزطے کرنا بنیادی کام ہے۔ یہاں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ تقابلی مطالعہ زبان کا ہورہا ہے، یا لہجے کا۔ میرے حساب سے ہم پیرامیٹرزکوزبان کے ذریعہ ہی طے کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ترجمے کے وقت اسے تھیورٹائزکرنا بھی بہت ضروری ہے۔
مختلف ممالک کے مہمانان نے کی سیمینارمیں شرکت
پہلے مہمانِ اعزازی فیروز بخت احمد نے کہا کہ کئی لوگ اردوکومذہب اورکلچرکی زبان کہتے ہیں، میرے حساب سے یہ مناسب نہیں ہے، اردوسب کی ہے۔ دوسرے مہمانِ اعزازی پروفیسر فاروق انصاری نے کہا کہ ترجمہ تخلیق سے مشکل کام ہے اوراس کی ضرورت ہے۔ ترجمہ اردو کے فروغ و اشاعت میں اہم کردارادا کررہا ہے۔ ڈاکٹرماہرمنصورنے’کنڑاوراردوزبان کے باہمی تراجم پرایک نظر‘ کے موضوع پرمقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کنڑ زبان نے اردو اورفارسی سے بہت زیادہ اخذ و استفادہ کیا ہے، یہ اوربات کہ اردوسے کنڑمیں تراجم کم ہوئے ہیں۔ کنڑ اوراردو کے مابین رشتے کووسیع کرنے کے لیے مزید تراجم کی ضرورت ہے۔ جناب اسلم مرزا نے ‘اردو زبان و ادب کی توسیع واشاعت میں تراجم کا حصہ’ کے موضوع پرگفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اردوکوثروت مند بنانے میں مختلف زبانوں کے تراجم کا نمایاں حصہ ہے۔ اس بابت انھوں نے فورٹ ولیم کالج کی مثال پیش کی۔ ڈاکٹرشفق سوپوری نے ’اردوکے کشمیری زبان پر جمالیاتی، تہذیبی وثقافتی اورادبی ولسانی اثرات‘ پربات کرتے ہوئے کہا کہ زبانوں کوزندہ رکھنے میں قواعد کا بہت اہم کردار ہے۔ ہم نے اردوکے ان الفاظ کوقبول کیا، جوقومی جمالیات کے مطابق تھے اورجواس کے خلاف تھے انھیں رد کردیا۔ یہ زبان کی صوتی خوبی کوظاہرکرتا ہے۔ پروفیسراحمد عبدالرحمن القاضی نے’مصرمیں ہندوستانی زبانوں کی تعلیم اورعربی شعورکی تشکیل میں ترجمہ نگاری کا کردار‘ پرگفتگوکرتے ہوئے کہا کہ جب بھی عرب اورہندوستان کوایک دوسرے کوسمجھنے اوراحساسات کومحسوس کرنے کی ضرورت پڑی تواس میں تراجم نے نہایت اہم رول ادا کیا۔ مصرکی کچھ جامعات اوریونیورسٹیزمیں اردوکوبطورنصاب بھی شامل کیا گیا۔ ڈاکٹرآصف علی ممود نے ’ماریشس میں بولی جانے والی مختلف زبانوں پراردوکے اثرات‘ کے موضوع پراپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ماریشس میں اردوکے فروغ میں مہاجرین کا اہم کردارہے، جن میں اترپردیش، بہار، مہاراشٹراوردکن کے کچھ صوبے قابل ذکرہیں۔ ڈاکٹرامان اللہ ایم بی نے’تمل اوراردو: لسانی وادبی تقابل، افکارواقداراورباہمی اشتراک‘ کے موضوع پراپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردواورتمل کا بہت پرانا رشتہ ہے۔ اس کا سہرا دکن کوجاتا ہے، دونوں زبانوں کی گرامربھی تقریباً ملتی جلتی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں”شام غزل“ کا انعقاد
تکنیکی سیشنزکے بعد ایم اے انصاری آڈیٹوریم(جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) میں ”شام غزل“ کے عنوان سے ایک شاندارثقافتی تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں معروف غزل سنگرراجیش سنگھ نے اپنے رفقا کے ساتھ مختلف غزلوں اورنغموں سے محظوظ کیا۔ ڈاکٹرفیضان الحق نے اس پروگرام کا تعارف پیش کیا اورمہمانوں کا استقبال کیا۔ اس موقع پرملک اوربیرون ملک سے تشریف لانے والے مہمانوں کے علاوہ کونسل کے افسران، اراکین اورعملہ کے ساتھ سامعین کی بڑی تعداد موجود رہی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…