قومی

Karnataka High Court Reprimands Police:’’یہ پولیس راج بند ہونا چاہیے‘‘،دیوانی تنازع میں غیرقانونی گرفتاری پرکرناٹک ہائی کورٹ کی پولیس کوپھٹکار

نئی دہلی: دیوانی معاملے میں پولیس کی من مانی کرنا اب پولیس افسران کو بھاری پڑ سکتی ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے ایسے ہی ایک معاملے میں پولیس حکام کو سخت پھٹکار لگائی، جہاں ایک شخص کو قانونی ضابطوں کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ عدالت نے گرفتاری کو غیر قانونی قرار دینے کے ساتھ ہی پولیس سب انسپکٹر اور متعلقہ افسران کو اپنی جیب سے 3 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ معاملہ بنگلورو کے وائٹ فیلڈ پولیس اسٹیشن سے متعلق ہے۔ یہاں رہنے والے 49 سالہ کے این موہن ریڈی کو وصیت سے متعلق ایک تنازع میں اچانک حراست میں لے لیا گیا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ پولیس نے ریڈی کو خود بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا کی دفعہ 35 (3) کے تحت نوٹس جاری کرکے 27 اگست کو تھانے بلایا تھا، لیکن مقررہ تاریخ سے دو دن پہلے ہی، 25 اگست کو پولیس ان کے گھر پہنچی اور انہیں گرفتار کر لیا۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

اصل تنازع ایک وصیت کی صداقت سے متعلق ہے۔ شکایت کنندہ جواہر گوپال نے دیوانی عدالت میں دعویٰ کیا تھا کہ 1994 کی ایک وصیت اور دیگر دستاویزات میں جعلسازی کی گئی ہے۔ اس معاملے میں ریڈی کو ایک گواہ اور دستخط کنندہ کے طور پر ملزم بنایا گیا تھا۔ چونکہ یہ معاملہ پہلے ہی سول کورٹ میں زیر سماعت تھا اور اس پر فیصلہ ہونا باقی تھا، اس لیے پولیس کی جانب سے اچانک کی گئی کارروائی پر قانونی ماہرین نے بھی سوال اٹھائے۔ ریڈی کی جانب سے وکیل اناگد کامتھ نے فوری طور پر ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے گرفتاری پر روک لگانے کا عبوری حکم جاری کیا، جس کے بعد مجسٹریٹ عدالت نے بھی ریڈی کو حراست میں بھیجنے سے انکار کر دیا۔

’’یہ پولیس راج بند ہونا چاہیے‘‘،عدالت کی سخت تنبیہ

سماعت کے دوران جسٹس ایم ناگ پرسنّا نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب کسی معاملے میں نوٹس جاری کرکے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی تھی اور متعلقہ شخص تفتیش میں تعاون کرنے کے لیے تیار تھا، تو بغیر کسی ٹھوس وجہ کے اس کی آزادی کیسے چھینی جا سکتی ہے۔ عدالت نے واضح الفاظ میں کہا کہ اس طرح کی بدنظمی برداشت نہیں کی جائے گی اور پولیس راج کو ختم کرنا ہوگا۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے ستندر کمار انتل بنام سی بی آئی مقدمے کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر ملزم تفتیش میں تعاون کر رہا ہو اور نوٹس کے مطابق پیش ہونے کے لیے تیار ہو تو اسے بلاوجہ گرفتار کرنے کا پولیس کو اختیار نہیں ہے۔

پولیس افسران اپنی جیب سے دیں گے 3 لاکھ روپے

اس فیصلے کا سب سے اہم پہلو پولیس افسران پر عائد کیا گیا 3 لاکھ روپے کا جرمانہ ہے۔ جسٹس ناگ پرسنّا نے واضح کیا کہ ایسی سنگین غفلت اور غیر قانونی کارروائی کے لیے عوام کے ٹیکس کا پیسہ یعنی سرکاری خزانہ استعمال نہیں کیا جائے گا۔ تحقیقاتی افسر اور ان کے سینئر افسران، جن میں اے سی پی اور ڈی سی پی سطح کے وہ افسران بھی شامل ہیں جن کی نگرانی میں غفلت برتی گئی، اب اپنی ذاتی جیب سے متاثرہ موہن ریڈی کو 3 لاکھ روپے ادا کریں گے۔ کرناٹک ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ ایسے پولیس اہلکاروں کے لیے سخت پیغام ہے جو قانون کے دائرے سے باہر جاکر عام شہریوں کے بنیادی حقوق کو متاثر کرتے ہیں۔ عدالت کے اس موقف سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ قانونی عمل اور شہری کی آزادی کے معاملے میں پولیس کی من مانی کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

?Who really pays the Price : چنڈی گڑھ میں نجی کیب سروسز پر پابندی سے ڈرائیوروں کی روزی روٹی متاثر، مسافروں کے پاس محدود آپشنز، سڑکوں پر احتجاج

ٹرانسپورٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ قوانین پر عمل یقینی بنانا ضروری ہے، لیکن ضابطے…

19 minutes ago

India vs Afghanistan T20: بھارت-افغانستان سیریز کے دوران 19 افراد گرفتار، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

13 ستمبر کو بھارت نے پہلا میچ 7 وکٹ سے جیتا، جب کہ دوسرے مقابلے…

30 minutes ago

Prime Minister Modi: دہلی میں ماحولیات پر بڑا بین الاقوامی اجلاس، وزیر نریندر اعظم مودی 19 ستمبر کو کریں گے افتتاح

’ماحولیات اور آب و ہوا کی حرکیات کا مستقبل‘ کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس،…

56 minutes ago

Travis Head: ٹریوس ہیڈ کی طوفانی سنچری، آسٹریلیا کا زمبابوے کے خلاف ون ڈے میں اب تک کا سب سے بڑا اسکور

زمبابوے کی جانب سے گیند بازی میں بریڈ ایونز نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں…

1 hour ago