کولکاتا: ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے منگل کو بی جے پی کی قیادت والی حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے سیاسی انتقام، پولیس کے مبینہ غلط استعمال اور اپوزیشن کی آواز دبانے کے الزامات عائد کیے۔ انہوں نے ان مبینہ اقدامات کے خلاف عوامی تحریک شروع کرنے کی بھی اپیل کی۔ پارٹی کارکنوں، حامیوں اور عوام سے ویڈیو پیغام کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کی پارٹی کے ہزاروں کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں، جبکہ پنچایتوں، بلدیاتی اداروں اور ضلع پریشدوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ’’میرا ماننا ہے کہ سب کو متحد ہونا چاہیے۔ اب ایک بڑی عوامی تحریک شروع ہونی چاہیے۔‘‘
سونار بنگلہ کو جیل بنا دیا گیا
مغربی بنگال کی صورتحال پر بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا ’’انہوں نے سونار بنگلہ کو جیل میں بدل دیا ہے۔ امن، بھائی چارے اور ثقافت والا بنگال آخر کہاں چلا گیا؟‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے بعض رہنما، جو بنگال کی سیاست اور ثقافت سے واقف نہیں، نیتا جی سبھاش چندر بوس کی توہین کر رہے ہیں۔ ممتا نے کہا ’’جے ہند کا نعرہ ہر ہندوستانی کی زبان پر ہے، لیکن کچھ لوگ نیتا جی اور رابندر ناتھ ٹیگور کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ کوئی انہیں غدار کہہ رہا ہے اور کوئی گندی سیاست کھیل رہا ہے۔ ایسی زبان سن کر شرمندگی ہوتی ہے۔”
نوجوانوں سے چوکنا رہنے کی اپیل
ترنمول کانگریس سربراہ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ حالات پر نظر رکھیں اور سوچیں کہ کیا بنگال اپنی شناخت کھو دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آنے سے پہلے بی جے پی نے کئی وعدے کیے تھے، لیکن اب ان پر کوئی عمل نظر نہیں آتا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ پولیس کا احترام کرتی ہیں، لیکن ان کا الزام ہے کہ بعض اہلکاروں کو سیاسی کارکنوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ’’مجھے کہا جا رہا ہے کہ یا تو دوسرے گروپ میں شامل ہو جاؤ یا پھر جیل جانے کے لیے تیار رہو۔ کیا یہی پولیس کا کام ہے؟‘‘
آشا کارکنوں اور فلاحی منصوبوں کا بھی ذکر
انہوں نے دعویٰ کیا کہ آشا کارکنوں کے ساتھ گنگاجل گھاٹی میں بدسلوکی کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کی کتابوں کی رائلٹی روک دی گئی ہے، جو ان کی آمدنی کا ایک ذریعہ ہے اور اس کے پیچھے بی جے پی کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ ممتا بنرجی نے مزید کہا کہ مختلف فلاحی اسکیموں کے نام بھی تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’’انّپورنا بھنڈار‘‘ اور ’’لکشمی بھنڈار‘‘ جیسی اسکیموں کے نام بدلنے کی کوشش کی گئی ہے۔
بریج بھوشن معاملہ اور نیٹ احتجاج کا حوالہ
ممتا بنرجی نے خواتین، طلبہ اور نوجوانوں سے متعلق کئی معاملات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ برج بھوشن شرن سنگھ سے متعلق معاملے میں انصاف نہیں ملا، جبکہ نیٹ امتحان کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کو ملک مخالف قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ طلبہ اور نوجوانوں کی تحریکوں کو بدنام کیوں کیا جا رہا ہے اور آخر میں عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا ’’میں باشعور لوگوں سے پوچھنا چاہتی ہوں، کیا آپ اب بھی خاموش رہیں گے؟‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…