قومی

Acharya Vivek Muni On Bharat Express Conclave: امریکہ، اسرائیل اور ایران … جل رہی ہےدنیا !آچاریہ وویک منی کا پیغام: بھگوان مہاویر کی اہنسا اور معافی ہی عالمی امن کا راستہ

نئی دہلی میں منعقدہ بھارت ایکسپریس میگا کانکلیو میں جین منی، یوگ مفکر اور آچاریہ سشیل منی مشن کے بانی صدر آچاریہ شری وویک منی نے بطورِ خاص مہمان شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے جین دھرم کی تعلیمات، بھگوان رام اور بھگوان کرشن کی مثالوں کے ذریعے موجودہ عالمی حالات اور دنیا میں بڑھتے جنگی تنازعات پر روشنی ڈالی۔ ساتھ ہی انہوں نے بھگوان مہاویر کے نظریۂ اہنسا اور معافی کے پیغام کو انسانیت کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔ پروگرام کے دوران بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اور ایڈیٹر اِن چیف اپیندر رائے نے آچاریہ وویک منی سے سوال کیا کہ آج کے دور میں جب دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے تو سچائی، اہنسا اور دھرم کی حفاظت کے حوالے سے بھگوان مہاویر کی تعلیمات کتنی اہمیت رکھتی ہیں۔

اس سوال کے جواب میں آچاریہ وویک منی نے کہا کہ موجودہ حالات میں دنیا واقعی ایک بڑے بحران کے دور سے گزر رہی ہے۔ ان کے مطابق یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ، اسرائیل اور حماس و حزب اللہ کے درمیان کشیدگی اور حالیہ دنوں میں اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے تناؤ نے عالمی فضا کو بے حد کشیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسمان پر جنگ کے سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں اور یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ تنازعات کب ایک بڑی عالمی جنگ میں تبدیل ہو جائیں۔

جین مت کا پیغام: عدم تشدد اور معافی

آچاریہ نے واضح کیا کہ ایسے وقت میں جین مت اور بھگوان مہاویر کا پیغام انسانیت اور عالمی امن کا راستہ ہے۔ انہوں نے کہا، “عالمی امن صرف عدم تشدد، ہمدردی، مہربانی اور معافی سے ہی ممکن ہے۔” جین مت کہتی ہے، “معافی بہادروں کا زیور ہے۔” ایک مثال دیتے ہوئے آچاریہ نے کہا کہ بھگوان مہاویر نے اپنے دشمنوں کی طرف سے دیے گئے دکھ اور درد کو بھی معاف کر دیا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ بھگوان مہاویر نے اپنے دشمنوں کی طرف سے دیے گئے شدید دکھ اور تکلیفوں کو بھی معاف کر دیا تھا۔ ان کے مطابق یہی رویہ انسان کو حقیقی روحانی بلندی تک پہنچاتا ہے اور سماج میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔

آچاریہ وویک منی نے مزید کہا کہ آج کے دور میں فرد، خاندان، سماج، ملک اور عالمی سطح پر ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا انتہائی ضروری ہے۔ جین فلسفے کے مطابق ہمیں دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہیے جو ہم اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔ تشدد، نفرت اور ناانصافی سے دور رہنا ہی صحیح راستہ ہے۔

انہوں نے عالمی امن کے حوالے سے کہا کہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے خطرے سے بچانے کے لیے چار عظیم شخصیات کی تعلیمات کو اپنانا ہوگا۔ ان کے مطابق بھگوان رام کی مریادا، بھگوان کرشن کی محبت، بھگوان مہاویر کی اہنسا اور بھگوان بدھ کی کرونا انسانیت کو امن اور بھائی چارے کی طرف لے جا سکتی ہیں۔آچاریہ نے اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے بار بار دہرائے جانے والے پیغام “وسودھیو کٹمبکم” یعنی پوری دنیا ایک خاندان ہے، کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہی نظریہ دنیا کو امن، خوشحالی اور باہمی احترام کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Guru Tegh Bahadur: دہلی میں امر بلیدان، موسیقی اور تھیٹر کے ذریعے گرو تیغ بہادر جی کی عظیم قربانی کو کیا گیا پیش

تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…

1 hour ago

Prime Minister Narendra Modi: وزیر اعظم مودی نے سیوا یاترا میں شامل نوجوانوں سے کی بات چیت ، کہا- یہ تجربات انمول ہیں

پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…

3 hours ago

Utter Pradesh International Trade Showگریٹر نوئیڈا میں میگا ٹریڈ شو، دنیا بھر کے تاجروں کا اجتماع، امت شاہ آج کریں گے شاندار افتتاح

گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…

4 hours ago

DU Financial Support Scheme: دہلی یونیورسٹی کا 100 فیصد فیس معافی کا اعلان، درخواست کے لیے یہ دستاویزات ضروری

دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…

4 hours ago

Uproar over CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار پر ہنگامہ، پروگرام ملتوی، کانگریس کا احتجاج، مہوا موئترا نے تھانے میں درج کرائی شکایت

کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…

5 hours ago