قومی

Bharat Express Conclave: اسرائیل–ایران جنگ پر اپوزیشن کیوں بے چین؟ سدھانشو ترویدی کا میگا کانکلیو میں طنزیہ سوال

نئی دہلی میں بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کی تیسری سالگرہ کے موقع پر 9 مارچ 2026 کو ایک شاندار میگا کانکلیو منعقد کیا گیا۔ “وکست بھارت 2047: نئے بھارت کی بات” کے موضوع پر منعقد اس پروگرام کی قیادت بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اور ایڈیٹر اِن چیف اپیندر رائے نے دارالحکومت  دہلی کے لَلِت ہوٹل میں ہونے والے اس پروگرام میں ملک کے کئی بڑے لیڈروں، وزراء اور ماہرین نے شرکت کی، جب کہ عوام میں بھی اس تقریب کو لے کر خاصا جوش و خروش دیکھا گیا۔

اس موقع پر بی جے پی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکن سدھانشو ترویدی نے کئی اہم موضوعات پر کھل کر اظہار خیال کیا۔ خاص طور پر اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال پر انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بنایا۔

سدھانشو ترویدی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ “اسرائیل اور ایران کی اس بیگانہ جنگ میں غیر ملا دیوانہ کیوں بن رہا ہے؟”۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ جاری ہے، لیکن بھارت کے اپوزیشن لیڈروں کو اس پر غیر معمولی درد کیوں محسوس ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس سوال کے ذریعے اپوزیشن کی پالیسی اور رویے پر تنقید کی۔

کانکلیو کے دوران انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کی بھی تعریف کی۔ ترویدی نے کہا کہ مودی جہاں بھی جاتے ہیں وہاں بھارت کی ایک الگ پہچان قائم کر دیتے ہیں۔ انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما کے دور میں وزیر اعظم مودی نے انہیں بھگوت گیتا بطور تحفہ پیش کی تھی۔

ترویدی کے مطابق اس تحفے کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا کہ ایٹمی طاقت جیسے بڑے اور پیچیدہ موضوعات کا تصور اور اس کی تخلیق و تباہی کے نظریات بھی بھارت کے قدیم ادب اور فلسفے میں پہلے سے موجود ہیں۔ اس سے دنیا کو بھارت کی قدیم دانش اور فکری ورثے کا اندازہ ہوتا ہے۔

پروگرام کے دوران سی ایم ڈی اپیندر رائے نے بے روزگاری کے مسئلے پر بھی حکومت سے سوال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس معاملے میں حکومت دفاعی پوزیشن میں نظر آتی ہے۔ اس پر جواب دیتے ہوئے سدھانشو ترویدی نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں حکومت ہر سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد سنجیدہ سوال اٹھانا نہیں بلکہ صرف ہنگامہ کھڑا کرنا ہے۔ ان کے بقول اپوزیشن کی سیاست میں منفی سوچ کا عنصر غالب ہے اور مختلف اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اس بات کی مقابلہ آرائی چل رہی ہے کہ کون زیادہ منفی بیانیہ پیش کرتا ہے۔

سدھانشو ترویدی نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے رہنما حکومت پر تنقید تو کرتے ہیں، لیکن ملک میں ہونے والی ترقی اور مثبت کاموں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وزیر اعظم مودی کے دور حکومت میں بھارت کی عالمی سطح پر شبیہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہوئی ہے اور خارجہ پالیسی کے میدان میں بھارت آج ایک مؤثر اور طاقتور آواز کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

3 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

3 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

4 hours ago