قومی

Employment in health sector: وزیراعظم نریندر مودی کا ’کیئر اکانومی‘ پر زور، صحت کے شعبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی اپیل

نئی دہلی: وزیراعظم مودی نے پیر کے روز ’کئیر اکانومی‘ کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے برسوں میں ملک میں بزرگ شہریوں کی تعداد تیزی سے بڑھے گی، جس کے باعث نگہداشت فراہم کرنے والے افراد کی ضرورت میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے یہ بات پوسٹ بجٹ ویبینار ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس-عوام کی امیدوں کی تکمیل‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے صحت کی سہولیات کو دیہی علاقوں تک پہنچانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آیوشمان بھارت اور آروگیہ مندروں کے ذریعے صحت کی خدمات کو دیہات تک وسعت دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کا یوگا اور آیوروید بھی دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔

صحت کے شعبے میں نوجوانوں کے لیے نئے مواقع

وزیراعظم کے مطابق دنیا کے کئی ممالک میں کئیرگیورز کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس رجحان کی وجہ سے صحت کے شعبے میں نوجوانوں کے لیے مہارت پر مبنی روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ویبینار میں موجود صحت کے ماہرین سے اپیل کی کہ وہ تربیتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے نئے ٹریننگ ماڈلز اور شراکت داری کے بارے میں تجاویز پیش کریں۔ وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تعلیمی نظام کو حقیقی دنیا کی معیشت سے جوڑنے کے عمل کو تیز کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کی معیشت کو مدنظر رکھتے ہوئے مصنوعی ذہانت، آٹومیشن، ڈیجیٹل اکانومی اور ڈیزائن پر مبنی مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں پر زیادہ توجہ دینا ضروری ہے۔

STEM تعلیم میں لڑکیوں کی بڑھتی دلچسپی

وزیراعظم نے STEM یعنی سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں لڑکیوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کی ٹیکنالوجیز کے دور میں یہ ضروری ہے کہ کسی بھی بیٹی کو مواقع کی کمی کی وجہ سے پیچھے نہ رہنا پڑے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں ایسا ریسرچ ایکو سسٹم تیار کرنا ہوگا جہاں نوجوان محققین کو نئی سوچ اور نئے تجربات پر کام کرنے کے لیے بھرپور مواقع مل سکیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسا ماحول پیدا کرنا ضروری ہے جہاں نوجوان محققین آزادی کے ساتھ نئی دریافتوں اور خیالات پر کام کر سکیں۔

کیا ہے کئیر اکانومی؟

Care Economy (کئیر اکانومی) ایک معاشی اصطلاح ہے جس سے مراد وہ معاشی سرگرمیاں اور خدمات ہیں جو لوگوں کی دیکھ بھال، نگہداشت اور فلاح و بہبود سے متعلق ہوتی ہیں۔ اس میں خاص طور پر بچوں، بزرگوں، بیمار افراد اور معذور لوگوں کی دیکھ بھال شامل ہوتی ہے۔ کئیر اکانومی سے مراد وہ نظام یا شعبہ ہے جس میں ایسے کام اور خدمات شامل ہوں جو انسانوں کی جسمانی، ذہنی اور سماجی نگہداشت کے لیے انجام دیے جاتے ہیں۔ کئیر اکانومی میں عام طور پر درج ذیل خدمات شامل ہوتی ہیں:

صحت کا شعبہ (ڈاکٹر، نرسیں، اسپتال کا عملہ)

بچوں کی دیکھ بھال (ڈے کیئر، آیا، نرسری)

بزرگوں کی نگہداشت (اولڈ ایج کیئر، ہوم کیئر)

معذور افراد کی مدد اور نگہداشت

گھریلو نگہداشت کی خدمات (کیئر گیورز، نرسنگ اسسٹنٹس)

کئیر اکانومی کو اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے روزگار کے بہت زیادہ مواقع پیدا ہوتے ہیں۔  معاشرے کے کمزور طبقات جیسے بزرگ اور بیمار افراد کو بہتر سہولت ملتی ہے۔ خواتین کی بڑی تعداد اس شعبے میں کام کرتی ہے، اس لیے یہ خواتین کی معاشی شمولیت میں بھی مددگار ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں بزرگ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے، اس لیے حکومتیں کئیر اکانومی کو فروغ دینے پر زور دے رہی ہیں تاکہ زیادہ کیئر گیورز، نرسیں اور طبی عملہ تیار کیا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Ayushman Bharat 8 Years: ’دنیا کی سب سے بڑی ہیلتھ اسکیم‘، آیوشمان بھارت کے 8 سال مکمل ہونے پر پی ایم مودی نے کیا کہا؟

مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…

2 hours ago