گزشتہ دہائی میں ہندوستان نے نہ صرف غیر ملکی سرمایہ (FDI) کو اپنی جانب متوجہ کیا، بلکہ عالمی سرمایہ کاری کے اصول و ضوابط کو نئے سرے سے متعین کیا ہے۔ 2014 کے بعد، ہندوستان کی اقتصادی کہانی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ 2004 سے 2014 کے درمیان ہندوستان میں ایف ڈی آئی کی مالیت 208 ارب ڈالر تھی، جب کہ 2014 کے بعد سے اب تک 500 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری آ چکی ہے۔ صرف 2019 سے 2024 کے دوران 300 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، اور اپریل تا دسمبر 2024 کے عرصے میں 40.67 ارب ڈالر کی FDI موصول ہوئی۔
اصلاحات کی بنیاد پر ترقی
یہ کامیابی محض اتفاقی نہیں، بلکہ حکومت نے جو بنیادی اصلاحات متعارف کرائی ہیں، جیسے کہ ’’میک اِن انڈیا‘‘، ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا‘‘، ’’ڈیجیٹل انڈیا‘‘، جی ایس ٹی کا نفاذ، اور نیشنل لاجسٹکس پالیسی وغیرہ، ان اقدامات نے نہ صرف کاروباری آسانیاں پیدا کیں بلکہ ہندوستان کو عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مقام بنا دیا۔ عالمی بینک کی Ease of Doing Business رینکنگ میں بھارت نے 2014 میں 140ویں پوزیشن سے 2019 میں 63ویں پوزیشن تک رسائی حاصل کی۔
ڈیجیٹل معیشت اور خدمات کے شعبے میں اضافہ
ہندوستان کی ڈیجیٹل معیشت ایف ڈی آئی کا سب سے بڑا مرکز بن کر ابھری ہے۔ 2014 کے بعد کمپیوٹر سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کے شعبے میں 95 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، جب کہ مالیاتی خدمات، آئی ٹی، تحقیق اور مشاورت جیسے خدماتی شعبوں میں 77 ارب ڈالر کی FDI آئی۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہندوستان اب صرف ایک بیک آفس نہیں، بلکہ ایک عالمی سطح کا اختراعی شراکت دار ہے۔
مینوفیکچرنگ کا ابھرتا ہوا چہرہ
FDI کی سب سے نمایاں کہانی ہندوستان میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کی بحالی ہے۔ 2014 میں ہندوستان کی 75 سے 80 فیصد اسمارٹ فونز درآمد کیے جاتے تھے، لیکن آج یہ تناسب الٹ چکا ہے۔ پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (PLI) اسکیم کے تحت ایپل جیسی عالمی کمپنیاں ہندوستان میں آئی فونز تیار کر رہی ہیں۔ اسمارٹ فون برآمدات 21 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جو ایک دہائی قبل نہ ہونے کے برابر تھیں۔ آٹو موبائل، تعمیراتی آلات اور دوا سازی جیسے شعبوں میں بھی FDI کے ذریعے بڑی پیش رفت ہوئی ہے، جس سے سروس پر مبنی معیشت سے متوازن اور ہمہ جہتی ترقی کی جانب سفر کی عکاسی ہوتی ہے۔
پائیدار ترقی اور سبز توانائی میں سرمایہ کاری
عالمی سرمایہ کار ہندوستان کے سبز ترقیاتی وژن کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔ قابل تجدید توانائی، الیکٹرک گاڑیاں اور صاف ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہندوستان ایک کلیدی عالمی مرکز بنتا جا رہا ہے۔ ٹیسلا، ہیونڈائی، رینیو پاور اور اڈانی گرین جیسی کمپنیاں بھارت میں موجود ہیں، یا اپنے آپریشنز کو توسیع دے رہی ہیں۔
عالمی منظرنامے پر ہندوستان کی اہمیت
’’چین پلس ون‘‘ پالیسی کے تحت جب دنیا چین کے متبادل کی تلاش میں ہے، ہندوستان ایک مستحکم، جمہوری اور وسعت پذیر متبادل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ہندوستان نے UAE، آسٹریلیا، برطانیہ، EU اور EFTA جیسے ملکوں سے تجارتی معاہدے کر کے عالمی سطح پر اپنی موجودگی کو مضبوط کیا ہے۔ اب ہندوستان صرف ایک متبادل نہیں، بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کی پہلی ترجیح بن چکا ہے۔ اگلی دہائی میں ہندوستان کا ہدف پیچھے رہ جانے کا نہیں، بلکہ قیادت کرنے کا ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…