قومی

Support to Poor Prisoners Scheme: وزارت داخلہ ادا کرے گی ’اہل‘ غریب قیدیوں کے جرمانے اور ضمانتی مچلکے، حکومت کی ایک کارآمد اسکیم کے بارے میں جانیے

وزارت داخلہ نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے کہا ہے کہ وہ ان غریب قیدیوں کو مرکزی فنڈ سے مالی امداد فراہم کریں جو مالی مجبوریوں کی وجہ سے جرمانے کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ضمانت یا جیل سے رہائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مرکز کے ذریعہ دستیاب فنڈز کا فائدہ اٹھانے کے لیے کہا ہے، جہاں سے وہ اہل قیدیوں کو فوائد فراہم کرنے کے لیے مناسب رقم نکال سکتے ہیں۔

ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو فنڈ سینٹرل نوڈل ایجنسی (CNA) کے ذریعے فراہم کیے جاتے ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کو اس اسکیم کے لیے سی این اے کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے نوٹس میں کہا گیا ہے ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، وزارت داخلہ نے مئی 2023 میں ’غریب قیدیوں کی مدد‘ اسکیم متعارف کرائی تھی، جس کا مقصد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو فنڈ دینا ہے، تاکہ وہ اس کا استعمال ان غریب قیدیوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کریں جو مالی کمزوری کی وجہ سے اپنا جرمانہ ادا نہیں کر پا رہے ہوں اور اس وجہ سے ضمانت یا جیل سے رہائی حاصل کرنے سے محروم ہوں۔‘‘

بار بار یاد دہانی کے باوجود نہیں استمال کیا جا رہا ہے فنڈ: وزارت داخلہ

وزارت داخلہ نے مزید کہا ہے کہ بار بار یاددہانی کے باوجود فنڈز استعمال نہیں کیے گئے ہیں کیوں کہ بہت سی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے اہل قیدیوں کی شناخت نہیں کی ہے اور انھیں اسکیم کا فائدہ فراہم نہیں کیا ہے۔ نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ چند ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے فنڈز کا استعمال کیا ہے، لیکن ان کے ذریعہ اس اسکیم کا مجموعی طور پر نفاذ بہت حوصلہ افزا نہیں ہے۔

واضح رہے کہ وزارت داخلہ نے پہلے ہی اس اسکیم کے نفاذ کے لیے رہنما خطوط اور ایک معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (SOP) جاری کر دیا ہے۔ رہنما خطوط کے ایک حصے کے طور پر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہر ضلع میں ایک ’ایمپاورڈ کمیٹی’ اور ریاستی ہیڈکوارٹر کی سطح پر ’اوورسائٹ کمیٹی‘ تشکیل دینے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ رہنما خطوط کے مطابق یہ کمیٹیاں اہل قیدیوں کو مالی امداد کی منظوری دینے کی ذمہ دار ہیں۔

وزارت داخلہ نے کہا کہ ’’اس اسکیم کے موثر نفاذ سے نہ صرف غریب قیدیوں کو درپیش مسائل کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، بلکہ جیلوں میں بھیڑ بھاڑ کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ لہٰذا، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اسکیم کے رہنما خطوط کے مطابق اہل قیدیوں کی شناخت کے لیے ٹھوس کوششیں کریں اور غریب قیدیوں کو راحت فراہم کرنے کے لیے ہر ضلع میں کمیٹیوں کی باقاعدہ میٹنگیں کریں۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

Pakistan-Afghanistan Clash: پاکستان کا افغانستان پر فضائی حملہ، سوئے ہوئے لوگوں پر جنگی طیاروں نے برسائے بم

فروری 2026 میں سرحد پر بڑھتی کشیدگی کے بعد افغان طالبان فورسز نے پاکستانی فوجی…

2 hours ago