قومی

The economy of Maharashtra is larger than Pakistan: پاکستان کے ساتھ کرکٹ نہ کھیلنا صرف کھیل سے دوری نہیں ہے، بلکہ یہ دہشت گردی کو فروغ دینے والی پالیسی کو مسترد کرنا ہے:سید اکبرالدین

بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی نے جنوبی ایشیائی کرکٹ کو ایک بڑے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملے اور بنگلہ دیش کے ایک سابق فوجی افسر کے اشتعال انگیز بیان نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ اس تناظر میں بھارتی کرکٹ ٹیم کا اگست 2025 میں مجوزہ بنگلہ دیش کا دورہ، جس میں تین ون ڈے اور تین ٹی-20 میچز شامل ہیں، منسوخ ہونے کے دہانے پر ہے۔ اس کے ساتھ ہی ستمبر 2025 میں شیڈول ایشیا کپ بھی غیر یقینی کی حالت میں ہے۔ اس حوالے سے  ہندوستان کے سابق سفیر سید اکبرالدین نے  ایک بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ جب تک دہشت گردی جاری رہے گی، پاکستان کے ساتھ کرکٹ سمیت کسی بھی قسم کے تعلقات ممکن نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرکٹ ہمارے لیے صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک جنون ہے۔ لیکن کچھ واقعات اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ وہ کھیل سے آگے نکل جاتے ہیں۔

سال1990 کی دہائی کا ذکر کرتے ہوئے سید اکبر الدین نے کہا کہ ایک وقت میں ہندوستان نے نسل پرستی کی پالیسی کی وجہ سے جنوبی افریقہ کے ساتھ کرکٹ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن آج ہم کسی دوسرے ملک کے ساتھ کرکٹ نہیں کھیل رہے ہیں اور اس کی وجہ صرف دہشت گردانہ حملہ نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ہاں، اس دہشت گردانہ حملے میں بڑی تعداد میں بے گناہ لوگ مارے گئے، لیکن یہ معاملہ صرف جانیں گنوانے کا نہیں ہے، یہ ہمارے سماجی اور اقتصادی ڈھانچے پر حملہ تھا۔ یہ ایک ایسا عمل تھا جس نے ہماری تکثیریت، ہمارے معاشرے کے تنوع اور بقائے باہمی کے جذبے کو ٹھیس پہنچائی تھی۔

سابق سفارت کار کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی جانب سے اسپانسر ہونے والی دہشت گردی کا اثر صرف سیکیورٹی تک محدود نہیں، یہ بھارت کی اقتصادی رفتار کو کم کرنے کی بھی کوشش ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ آزادی کے بعد ہندوستان اور پاکستان دونوں نے ایک ہی وقت میں اپنا سفر شروع کیا تھا۔ لیکن آج ہماری معیشت پاکستان سے دس گنا بڑی ہے۔ اکیلے مہاراشٹر جیسی ریاست کی معیشت پاکستان کی پوری معیشت کو پیچھے چھوڑ چکی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت نے جنوبی افریقہ کے ساتھ اپنے تعلقات بدلے کیونکہ یہاں تبدیلی آئی تھی لیکن پاکستان کے معاملے میں اب بھی صورتحال سنگین ہے۔ ہمارا پاکستان کے ساتھ کرکٹ نہ کھیلنا صرف کھیل سے دوری نہیں ہے، بلکہ یہ دہشت گردی کو فروغ دینے والی پالیسی کو مسترد کرنا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Jio now sets its sights on the US and Germany: جیو کی نظریں اب امریکہ اور جرمنی پر: 12 شراکت داریوں کے ذریعے 150 کروڑ صارفین تک پہنچنے کی امید

ہندوستان کی ثابت شدہ ٹیکنالوجی اب دنیا تک پہنچنے کے لیے تیار، ترقی یافتہ ممالک…

1 hour ago

Vijeta Dahiya: اقتدار تبدیلی کی بات کرنا غیر آئینی نہیں، جمہوریت میں عوام کو حکومت بدلنے کا حق ہے: وجیتا دہیا

پرشانت بھوشن کے اقتدار کی تبدیلی سے متعلق بیان پر وجیتا دہیا نے کہا، ’’انہوں…

2 hours ago