مشہور اداکار اور سیاستدان کمل ہاسن نے اپنی فلم ’ٹھگ لائف‘ کے ایک پروموشنل ایونٹ میں کہا کہ ’کنڑہ زبان تمل سے پیدا ہوئی ہے۔ یہ بیان انہوں نے چنئی میں فلم کے آڈیو لانچ کے دوران دیا، جہاں کنڑہ اداکار شیوراج کمار بھی موجود تھے۔ کمل ہاسن نے اپنی تقریر میں تمل کو اپنی ’زندگی اور خاندان‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کنڑہ زبان تمل سے نکلی ہے، جس سے وہ شیوراج کمار کو بھی اپنے خاندان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس بیان نے کرناٹک میں شدید تنازع کو جنم دیا، جہاں کنڑہ زبان کی اہمیت اور خودمختاری پر فخر کیا جاتا ہے۔
کمل ہاسن کے اس بیان پر کرناٹک میں سخت ردعمل سامنے آیا۔ کرناٹک بی جے پی کے صدر بی وائی وجے ایندرا نے اسے ’غیر مہذب رویہ‘ اور ’کنڑہ زبان کی توہین‘ قرار دیتے ہوئے کمل ہاسن سے غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کنڑہ زبان کی 2500 سال سے زیادہ کی تاریخ ہے اور یہ عالمی سطح پر ایک نمایاں زبان ہے۔ وجے ایندرا نے مزید الزام لگایا کہ کمل ہاسن نے اپنی تامل زبان کی تعریف میں کنڑہ کو کمتر دکھا کر 6.5 کروڑ کنڑہ باشندوں کی خودداری کو ٹھیس پہنچائی۔ اپوزیشن کانگریس نے اس تنازع کو بی جے پی کی سیاسی چال قرار دیا، جبکہ سابق ڈی ایم کے رہنما ٹی کے ایس ایلنگووان نے کہا کہ وہ کسی بھی زبان کے خلاف نہیں ہیں۔
پرو کنڑہ تنظیموں، خصوصاً کرناٹک رکشا ویڈیکے نے کمل ہاسن کے بیان کی سخت مذمت کی اور ان کے خلاف احتجاج کیا۔ تنظیم کے صدر پراوین شیٹی نے کمل ہاسن کو خبردار کیا کہ اگر وہ کنڑہ زبان اور کنڑہ باشندوں کے خلاف بولنا بند نہ کریں تو ان کی فلم ’تھگ لائف‘ کرناٹک میں بین کر دی جائے گی۔ بنگلور میں مظاہرین نے فلم کے پوسٹرز پھاڑ دیے اور کمل ہاسن کے خلاف نعرے بازی کی۔ شیٹی نے دعویٰ کیا کہ کمل ہاسن بنگلور میں ایک پروموشنل ایونٹ سے احتجاج سے بچنے کے لیے وقت سے پہلے چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کمل ہاسن کاروبار کرنا چاہتے ہیں تو انہیں کنڑہ کی توہین بند کرنی ہوگی۔
یہ تنازع کمل ہاسن کی فلم ’ٹھگ لائف‘ کی ریلیز سے چند ہفتوں قبل سامنے آیا، جو منی رتنم کی ہدایت کاری میں 5 جون کو ریلیز ہونے والی ہے۔ پرو کنڑہ تنظیموں نے فلم کے بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے، اور کرناٹک کے کچھ تھیٹر مالکان کو دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ فلم نہ دکھائیں جب تک کہ کمل ہاسن معافی نہ مانگیں۔ اس تنازع نے نہ صرف لسانی جذبات کو ہوا دی ہے بلکہ سیاسی محاذ آرائی کو بھی بڑھاوا دیا ہے، کیونکہ بی جے پی نے کمل ہاسن کے ماضی کے مذہبی بیانات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اگر یہ تنازع بڑھتا ہے تو فلم کی ریلیز اور کمل ہاسن کی سیاسی ساکھ پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں، خاص طور پر جب وہ اپنی پارٹی مکمل نیڈھی میم کے ذریعے تمل ناڈو میں سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…