قومی

Women Reservation Bill: یہ ترمیم گزشتہ 40 برس سے زیر التوا خواتین کے حقوق کو 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے نافذ کرنے کی ایک اہم کوشش تھی :وزیر اعظم نریندر مودی

نئی دہلی: لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن ترمیمی بل پاس نہ ہو سکنے کے بعد مرکزی حکومت نے اس معاملے پر تفصیلی وضاحت پیش کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترمیم گزشتہ 40 برس سے زیر التوا خواتین کے حقوق کو 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے نافذ کرنے کی ایک اہم کوشش تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام 21ویں صدی کی بھارتی خواتین کو نئے مواقع فراہم کرنے اور انہیں بااختیار بنانے کے مقصد سے لایا گیا تھا۔مرکزی حکومت نے واضح کیا کہ 16 اپریل کو خواتین ریزرویشن ترمیمی بل (آئین کا 131واں ترمیمی بل) 2026، حلقہ بندی بل 2026 اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے متعلق ترمیمی بل لوک سبھا میں پیش کیے گئے تھے۔ حکومت کے مطابق ناری شکتی وندن ایکٹ میں یہ طے کیا گیا ہے کہ 2026 کے بعد ہونے والی مردم شماری کی بنیاد پر حلقہ بندی کے بعد خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دیا جائے گا۔ اگر حکومت 2026 کی مردم شماری اور اس کے بعد حلقہ بندی کا انتظار کرتی تو خواتین کو 2029 کے انتخابات میں بھی اس کا فائدہ نہیں مل پاتا۔

حکومت نے کہا کہ اگر یہ تینوں بل منظور ہو جاتے تو صدر کی منظوری کے بعد یہ قانون بن جاتے اور خواتین کو 2029 کے لوک سبھا انتخابات میں ہی 33 فیصد ریزرویشن مل سکتا تھا۔ اس سے خواتین کو طویل عرصے سے منتظر حق ملنے کی امید تھی۔حلقہ بندی اور نشستوں میں اضافے کے معاملے پر حکومت نے بتایا کہ لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد 1976 میں 550 مقرر کی گئی تھی، جب ملک کی آبادی تقریباً 54 کروڑ تھی۔ اب آبادی 140 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، اس لیے نمائندگی کو بہتر بنانے کے لیے نشستوں کی تعداد 850 تک بڑھانے کی تجویز دی گئی۔ اس تجویز کے تحت تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ کیا جانا تھا تاکہ موجودہ تناسب برقرار رہے۔

حکومت نے اپوزیشن کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے جنوبی ریاستوں یا چھوٹی ریاستوں کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ حکومت کے مطابق جنوبی ریاستوں کی نمائندگی موجودہ 23.76 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 23.87 فیصد ہو جاتی۔ اسی طرح درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کی نشستیں بھی 131 سے بڑھ کر تقریباً 205 ہو جاتیں۔مسلم خواتین کے لیے الگ کوٹے کے سوال پر حکومت نے کہا کہ آئین میں مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ اسی طرح ذات پر مبنی مردم شماری کو مؤخر کرنے کے الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ مردم شماری کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور اس میں ذات سے متعلق معلومات بھی شامل کی جائیں گی۔مرکزی حکومت نے مزید کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں جیسے جموں و کشمیر، دہلی اور پڈوچیری میں خواتین ریزرویشن نافذ کرنے کے لیے الگ بل لانا ضروری تھا تاکہ ان اسمبلیوں میں بھی خواتین کو مناسب نمائندگی دی جا سکے۔ حکومت نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہوگا اور خواتین کو جلد ان کا حق مل سکے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو

 

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Air India Flight Suspension: سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایئر انڈیا کی سعودی عرب آنے اور جانے والی پروازیں 14 نومبر تک معطل

یہ تازہ ایڈوائزری اس اعلان کے صرف چھ دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں…

3 hours ago

The BJP’s New Balance in UP: یوگی کی زمین، مودی کا آسمان: یوپی میں بی جے پی کا نیا سیاسی توازن

امت شاہ کے لکھنؤ دورے اور ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد 2027 اور…

3 hours ago

CM Yogi’s leadership in UP: کیا امت شاہ نے یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت پر مہر لگا دی؟ 2027 اور 2029 کے سیاسی فارمولے کا پورا حساب

لکھنؤ میں بی جے پی کی ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد قیاس آرائیاں…

4 hours ago

Supreme Court on UP SIR: اتر پردیش ایس آئی آر معاملے میں سپریم کورٹ سخت، الیکشن کمیشن کو تحقیقات کی ہدایت

سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرانے کے لیے بڑی…

4 hours ago