قومی

Bihar Assembly Election 2025: بہار اسمبلی الیکشن کا بائیکاٹ کرنے پر تبادلہ خیال کریں گے… ووٹرلسٹ نظرثانی تنازعہ پر تیجسوی یادو کا بڑا بیان

بہاراسمبلی الیکشن 2025 سے قبل ووٹرلسٹ کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) تنازعہ کے درمیان بہاراسمبلی میں اپوزیشن لیڈراورسابق نائب وزیراعلیٰ تیجسوی یادونے کہا کہ انتخابات کے بائیکاٹ پربھی بات ہوسکتی ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ عوام کیا چاہتی ہے اورعوام کی رائے کیا ہے۔ نیوزایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے الیکشن کمیشن اوربی جے پی پرملی بھگت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بے ایمانی سے اس کو اتنا دینا ہے اوراس کواتنا دینا ہے، توپھرانتخابات کیوں کرائے جائیں؟

انہوں نے کہا کہ بہارجمہوریت کی ماں ہے۔ جمہوریت کوختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بہاراسمبلی میں ایس آئی آرپربحث ہونی چاہئے، اجازت مل گئی۔ درمیان میں وزیراعلیٰ نے مداخلت کی تووہ بیٹھ گئے۔ بات کہہ رہے تھے۔ پتہ ہی نہیں تھا کہ ایس آئی آرپربحث ہورہی ہے۔ یہ پتہ نہیں تھا کہ بہارمیں ایس آئی آرہورہا ہے۔ پرانا رٹا رٹایا بات کہے۔ ان کے عجیب وزیرہیں۔ وزیررخنہ ڈالنے لگے۔ بات نہیں رکھنے دیا گیا۔ حکومت پوری طرح سے نہیں چاہتے کہ ایس آئی آرپربحث ہو۔ تیجسوی یادونے کہا کہ آج تک الیکشن کمیشن نے پریس کانفرنس نہیں کی۔ بہارمیں انتخابات ہورہے ہیں۔ اچانک اتنی بڑی مہم شروع ہوگئی۔ بہت سے سوالات ہیں۔ بہت سی الجھنیں ہیں۔ ہمیں مجبوراً عدالت کا سہارا لینا پڑا۔ یہ صرف نمبروں کومکمل کرنے کے لئے 98 فیصد بنایا گیا تھا۔ زمینی حقیقت مختلف ہے۔ گائیڈ لائن پرعمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ بڑی دھاندلی ہوئی ہے۔ یہ صرف آئی واش ہوا ہے۔

بی جے پی کے اشارے پرالیکشن کمیشن کررہا ہے کام

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کے اشارے پرکام کررہی ہے۔ پہلے ووٹرسرکار منتخب کرتی تھی۔ اب حکومت ووٹرس منتخب کرتے ہیں۔ آئین کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ راج شاہی لانا چاہتے ہیں۔ ہرپلیٹ فارم پراڑیں گے۔ الیکشن کمیشن کوآج نہیں تو کل جواب دینا ہوگا۔ الیکشن کے بائیکاٹ پرکہا کہ لوگوں سے بات کریں گے۔ آپ الیکشن ایمانداری سے کرائیے گا نہیں۔ توالیکشن کا کیا مطلب ہے؟ حکومت کو ایکسٹینشن دے دے۔ کھل کر ننگاپن آگیا تواپنے آقاوں کو بنائے رکھو۔ جمہوریت کوختم کرنے اورہماری بچانے کی لڑائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے پتہ پر70 فرضی ووٹربنائے گئے۔ چنڈی گڑھ میں کیسے دھاندلی ہوئی۔ بی جے پی یہی کراتی ہے۔ الیکشن کمیشن کا یہی حال ہے۔ چاردن کی چاندنی ہے۔ پھرچلے گا۔ عوام جاگے گی توعوام جواب دے گی۔

عظیم اتحاد میں ہوگئی ہے سیٹوں کی تقسیم

انہوں نے کہا کہ سبھی وزیراعظم، وزیراعلیٰ ہوں، سبھی عوامی نمائندے ہیں۔ ووٹرووٹ دیتے ہیں، جب ووٹروں کا نام کٹ جائے گا توہمارا کیا کام ہے۔ اگرہم ان کا تحفظ نہیں کرپائیں گے تو ہمارا کیا کام ہے۔ اس جمہوریت کے مندرمیں بحث نہیں ہوگی، جس سے اسپیکر، برسراقتداراوراپوزیشن بنتا ہے۔ تو پھرایوان کا کیا مطلب رہے گا؟ کام چھوڑکربحث اس پرہونی چاہئے۔ صرف ووٹ کا اختیارنہیں چھینا جا رہا ہے۔ وجود ہی چھینا جا رہا ہے، اگرشہری ہے تو ووٹ دینے دو۔ ووٹ نہیں دینے دے رہے ہوتواس ملک کا شہری نہیں ہے۔ کیا پتہ اس کی جائیداد ہی قبضہ کرلیں گے۔ اگرووٹرہی نہیں رہا توحقوق کے ساتھ ساتھ ہی وجود ہی نہیں رہ جائے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Indians in Germany: جرمنی میں ہندوستانیوں کی تعداد 4 لاکھ کے قریب، 70 ہزار طلبہ کر رہے ہیں اعلیٰ تعلیم حاصل

جرمنی میں ہندوستانی برادری کی موجودگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سستی تعلیم،…

36 minutes ago

Manoj Bajpayee Raises A Question: منوج باجپائی کا سوال: جو لوگ سماج کے مسائل پر بات نہیں کرتے، انہیں اسٹار کا درجہ کیوں دیا جائے؟

ممبئی کے ’مکتی آڈیٹوریم‘ میں منعقدہ تقریب کے دوران اداکار منوج باجپائی نے فلمی ستاروں…

1 hour ago

Rising Stars Asia Cup: رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: تلک ورما کے ہاتھوں میں ’انڈیا اے‘ کی کمان، رجت پاٹیدار نائب کپتان مقرر

ایشین کرکٹ کونسل کے مینز رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ کے لیے 15 رکنی انڈیا اے…

3 hours ago