آچاریہ پرمود کرشنم۔ (فائل فوٹو)
کلکی دھام کے پیٹھادھیشور آچاریہ پرمود کرشنم نے صنعت کاروں کے سب سے معتبر ادارے ٹاٹا گروپ سے متعلق سامنے آ رہی بدعنوانی کی خبروں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ صنعتی دنیا کی ‘روح’ ٹاٹا گروپ ہے، لیکن جس طرح بدعنوانی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، وہ نہایت افسوسناک اور ملک کے لیے تشویشناک ہیں۔ رتن ٹاٹا کے جانے کے بعد، جوتا، سائیکل اور چھاتا بیچنے کے نام پر 3 ہزار کروڑ روپے کا خسارہ دکھا کر جس انداز میں مالی دھوکہ دہی کی جا رہی ہے، وہ ایک سنگین معاملہ ہے اور اس پر اعلیٰ سطحی تحقیقات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ صرف نوئل ٹاٹا کی انتظامی ناکامی نہیں ہو سکتا بلکہ ممکنہ طور پر کسی بڑے مالیاتی گھوٹالے کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بھارت کی مرکزی تفتیشی ایجنسیوں جیسے سی بی آئی اور ای ڈی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کی سنجیدگی سے مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں۔
آچاریہ پرمود کرشنم کا کہنا تھا کہ ٹاٹا گروپ صرف ایک کاروباری ادارہ نہیں بلکہ ایک قومی ورثہ ہے اور ملک کا کوئی بھی شہری اسے زوال پذیر ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہے گا۔ فی الحال ٹاٹا گروپ کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن یہ معاملہ سوشل میڈیا پر تیزی سے زیر بحث ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص ہونے جا رہا…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی میں بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا تیسرا…
بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…
اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…
پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…