بین الاقوامی

Taliban reminds Pak terms of ceasefire: افغانستان نے پاکستان کو کیا خبردار، جنگ بندی معاہدے کی شرائط یاد دلاتے ہوئے کہہ دی بڑی بات

کابل، 22 اکتوبر (آئی اے این ایس)۔ افغانستان کی طالبان حکومت نے پاکستان کو اُن شرائط کی یاد دہانی کرائی ہے جو دونوں ممالک کے درمیان طے پائے گئے معاہدے میں شامل ہیں۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے میں جنگ بندی، باہمی احترام اور ایک دوسرے کے سیکورٹی فورسز، شہریوں اور تنصیبات پر حملوں سے گریز پر زور دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیا گیا بیان

یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیا گیا۔ افغانستان کی وزارتِ دفاع نے کہا، ’’اسلامی امارت کے وزیرِ دفاع نے ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی تفصیلات بتائی ہیں۔ مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ یہ معاہدہ جنگ بندی، باہمی احترام، ایک دوسرے کے سیکورٹی فورسز، شہریوں اور تنصیبات پر حملوں سے پرہیز، تمام معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے اور ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے پر مکمل زور دیتا ہے۔ ان شرائط سے ہٹ کر دیا گیا کوئی بھی بیان ناقابلِ قبول ہے۔‘‘

افغانستان اور پاکستان فوری جنگ بندی پر متفق

یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب افغان سرزمین پر فضائی حملوں اور افغان پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے قبل 18 اکتوبر کو قطر کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ ایک ہفتے سے زیادہ جاری شدید لڑائی کے بعد، جس میں درجنوں افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے، افغانستان اور پاکستان فوری جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں۔

قطر کے بیان کے مطابق، پاکستان اور افغانستان پائیدار امن و استحکام کو مضبوط کرنے کے لیے ایک نظام قائم کرنے پر متفق ہوئے ہیں، اور جنگ بندی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مزید مذاکرات طے کیے گئے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان دونوں کے وفود قطر اور ترکی کی ثالثی میں دوحہ میں مذاکرات کے لیے موجود تھے۔

وزرائے دفاع نے کی مذاکرات کی قیادت

مذاکرات کی قیادت دونوں ممالک کے وزرائے دفاع نے کی، اور پاکستان نے کہا کہ توجہ ’افغانستان سے سرحد پار ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے اور سرحد پر امن و استحکام بحال کرنے کے فوری اقدامات‘ پر مرکوز ہوگی۔

کابل پر حملے کے بعد شروع ہوا تنازعہ

یہ تنازعہ اُس وقت شروع ہوا جب پاکستان نے کابل پر فضائی حملے کیے۔ اسلام آباد اور کابل دونوں نے حالیہ دنوں میں ایک دوسرے پر حملے کرنے کا الزام لگایا ہے۔ پاکستان نے بارہا دعویٰ کیا ہے کہ دہشت گرد گروہ افغان سرزمین سے حملے کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان نے سرحد پار تشدد کے ذمے دار ایسے کسی بھی گروہ کو پناہ دینے سے سختی سے انکار کیا ہے۔

18 اکتوبر کو افغانستان کے پکتیکا صوبے میں پاکستانی فضائی حملے میں تین افغان کرکٹر ہلاک ہوگئے۔ یہ کھلاڑی ایک دوستانہ میچ میں شرکت کے لیے ارگون سے پاکستان کی سرحد کے قریب شارانہ گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت کبیر، سبقت اللہ اور ہارون کے ناموں سے ہوئی ہے۔ اس حملے میں پانچ دیگر شہری بھی جاں بحق ہو گئے تھے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Jio now sets its sights on the US and Germany: جیو کی نظریں اب امریکہ اور جرمنی پر: 12 شراکت داریوں کے ذریعے 150 کروڑ صارفین تک پہنچنے کی امید

ہندوستان کی ثابت شدہ ٹیکنالوجی اب دنیا تک پہنچنے کے لیے تیار، ترقی یافتہ ممالک…

9 minutes ago

Vijeta Dahiya: اقتدار تبدیلی کی بات کرنا غیر آئینی نہیں، جمہوریت میں عوام کو حکومت بدلنے کا حق ہے: وجیتا دہیا

پرشانت بھوشن کے اقتدار کی تبدیلی سے متعلق بیان پر وجیتا دہیا نے کہا، ’’انہوں…

47 minutes ago

Manisha Koirala’s Message for Women: ’’بدلتے جسم سے لڑنے کے بجائے اسے سمجھیں…‘‘، منیشا کوئرالا کا خواتین کو خاص پیغام

منیشا کوئرالا نے خواتین سمیت سبھی لوگوں سے صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی اپیل…

1 hour ago