نئی دہلی: تمل ناڈو کی حکمراں جماعت دراوڑ منیترا کزگم یعنی ڈی ایم کے اور کانگریس کے درمیان سیاسی فاصلے اب کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ ڈی ایم کے کی سینئر لیڈر اور لوک سبھا رکن کنی موزھی کروناندھی نے لوک سبھا اسپیکر کو خط لکھ کر اپنی پارٹی کے ارکان کے لیے ایوان میں الگ نشستوں کا انتظام کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس اقدام کو نہ صرف کانگریس کے ساتھ اتحاد کے خاتمے کی علامت سمجھا جا رہا ہے بلکہ اسے انڈیا اتحاد سے بھی ڈی ایم کے کی عملی علیحدگی کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ سات مئی کو لکھے گئے اس خط میں کنی موزھی نے بدلتے ہوئے سیاسی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے ساتھ ڈی ایم کے کا اتحاد ختم ہو چکا ہے، اس لیے اب دونوں جماعتوں کے ارکان کا ایک ساتھ بیٹھنا مناسب نہیں رہا۔ انہوں نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ ڈی ایم کے پارلیمانی پارٹی کے تمام اراکین کے لیے الگ نشستیں مختص کی جائیں تاکہ پارٹی اپنی سیاسی اور پارلیمانی ذمہ داریوں کو آزادانہ انداز میں انجام دے سکے۔
سیاسی حلقوں میں اس خط کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ ڈی ایم کے اور کانگریس کئی برسوں سے قومی سیاست اور تمل ناڈو کی انتخابی حکمت عملی میں ایک دوسرے کے قریبی اتحادی رہے ہیں۔ دونوں جماعتیں مختلف مواقع پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف مشترکہ موقف اختیار کرتی رہی ہیں، تاہم حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والے اختلافات نے اس رشتے کو کمزور کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کانگریس کی جانب سے تمل ناڈو میں وجے کی جماعت ٹی وی کے کے ساتھ مستقبل کے انتخابات لڑنے کے اعلان کے بعد ڈی ایم کے قیادت میں ناراضی بڑھ گئی تھی۔ کانگریس نے واضح کیا تھا کہ آئندہ ریاستی انتخابات میں اس کی ترجیح وجے کے ساتھ سیاسی اشتراک ہوگا۔ اسی فیصلے کے بعد ڈی ایم کے نے اپنی سیاسی حکمت عملی پر نظر ثانی شروع کی اور اب پارلیمنٹ میں الگ بیٹھنے کی درخواست کو اسی سلسلے کی اہم کڑی مانا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لوک سبھا اسپیکر کنی موزھی کی درخواست منظور کر لیتے ہیں تو ایوان کا موجودہ نشستوں کا نقشہ تبدیل کرنا پڑے گا اور ڈی ایم کے اپوزیشن کے اندر ایک آزاد گروپ کی حیثیت سے نظر آئے گی۔ اس تبدیلی کا اثر پارلیمنٹ میں ہونے والی اہم قانون سازی، ووٹنگ اور اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی پر بھی پڑ سکتا ہے۔ ڈی ایم کے کے پاس لوک سبھا میں 22 جبکہ راجیہ سبھا میں 8 ارکان موجود ہیں۔ ایسے میں اس جماعت کی علیحدگی کو انڈیا اتحاد کے لیے بڑا سیاسی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق جنوبی بھارت کی سیاست میں اس پیش رفت کے دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور آنے والے دنوں میں اپوزیشن اتحاد کی سیاست مزید پیچیدہ شکل اختیار کر سکتی ہے۔ ادھر بی جے پی نے اس پیش رفت کو اپوزیشن اتحاد کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف جماعتوں کے درمیان نظریاتی اختلافات اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ دوسری جانب کانگریس نے ابھی تک اس معاملے پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم پارٹی کے بعض لیڈروں کا کہنا ہے کہ سیاسی حالات کے مطابق اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں۔ تمل ناڈو میں بدلتی سیاسی صورتحال کے باعث نئی صف بندیوں کے امکانات نمایاں ہو رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
نٹھاری قتل معاملے سے متعلق آخری کیس میں بھی سریندر کولی کو سپریم کورٹ سے…
عدالت نے کہا کہ انتخابی ضابطوں کی ان خلاف ورزیوں کے لیے اجتماعی انتخابی ہرجانہ…
امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم کی 25 سالہ عوامی خدمت کا ذکر اس…
یونیورسٹی آف ممبئی کے شعبۂ قانون اور چیف جسٹس ایم سی چھاگلا میموریل ٹرسٹ کے…
پروفیسر شاہد صدیقی نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو اردو سے جوڑنے کے لیے…
مانسون کی سرگرمیاں برقرار، بعض علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان؛ دہلی میں…