چنئی: تمل ناڈو میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں حکمران جماعت ڈی ایم کے اور کانگریس کے درمیان سیٹوں کی تقسیم پر بالآخر اتفاق ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو 28 اسمبلی نشستیں جبکہ ایک راجیہ سبھا سیٹ دی جائے گی۔ اگرچہ اس فیصلے کا باضابطہ اعلان ابھی باقی ہے، تاہم دونوں جماعتوں کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد فارمولہ طے پا گیا ہے۔ یہ فیصلہ دونوں پارٹیوں کے سینئر قائدین کی موجودگی میں ہونے والی اہم میٹنگ میں لیا گیا، جس میں تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن بھی شریک تھے۔ اجلاس میں آئندہ انتخابی حکمت عملی اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ تال میل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ کانگریس کے ریاستی انچارج گریش چوڈنکر نے کہا کہ دونوں جماعتیں متحد ہو کر مضبوطی کے ساتھ انتخابات لڑیں گی اور اتحادی محاذ کو مزید مستحکم کریں گی۔
تمل ناڈو اسمبلی کی کل 243 نشستیں ہیں۔ ابتدا میں کانگریس نے 30 سے 35 اسمبلی سیٹوں اور دو راجیہ سبھا نشستوں کا مطالبہ کیا تھا، جب کہ ڈی ایم کے نے 25 اسمبلی اور ایک راجیہ سبھا سیٹ کی پیشکش کی تھی، جسے کانگریس نے مسترد کر دیا تھا۔ اس کے بعد کئی دور کی بات چیت اور غور و خوض کے بعد 28 اسمبلی اور ایک راجیہ سبھا سیٹ پر اتفاق قائم ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ سیٹ شیئرنگ کے معاملے کو حل کرنے کے لیے کانگریس نے اپنے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم کو ذمہ داری سونپی تھی، جنہوں نے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ 2021 کے اسمبلی انتخابات میں تمل ناڈو کی 234 نشستوں میں سے کانگریس نے 25 نشستوں پر مقابلہ کیا تھا اور 18 پر کامیابی حاصل کی تھی۔ ڈی ایم کے اور کانگریس طویل عرصے سے ریاست میں اتحادی رہے ہیں اور سیکولر پروگریسیو الائنس کے تحت مل کر انتخابات لڑتے آئے ہیں۔ اس بار طے شدہ فارمولے کے مطابق کانگریس 28 جبکہ ڈی ایم کے تقریباً 206 نشستوں پر امیدوار میدان میں اتارے گی۔
دوسری جانب اداکار کمل ہاسن کی قیادت والی جماعت ایم این ایم کو کتنی نشستیں دی جائیں گی، اس پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ اتحادی جماعتوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم اور امیدواروں کے ناموں کا باضابطہ اعلان آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق کانگریس اور ڈی ایم کے کے درمیان یہ سمجھوتہ ریاست میں اتحادی سیاست کو نئی مضبوطی فراہم کرے گا اور آئندہ انتخابی مقابلے کو مزید دلچسپ بنا دے گا۔ آنے والے دنوں میں امیدواروں کی فہرست جاری ہونے کے بعد انتخابی مہم میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…
SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…
بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر…
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ…
کوہلی ورلڈ کپ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شامل رہے ہیں۔ انہوں…
جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…