کانگریس لیڈر سید ناصر حسین۔ (ٖفائل فوٹو)
نائب صدر کے عہدے کے لیے آج ہو رہے انتخاب کے سلسلے میں اپوزیشن جماعتوں نے این ڈی اے پر دباؤ اور سازش کے الزامات عائد کیے ہیں۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سید ناصر حسین نے کہا ہے کہ بعض سیاسی جماعتوں کا اس انتخابی عمل سے دور رہنا دراصل دباؤ کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے این ڈی اے پر الزام عائد کیا کہ گزشتہ 10 برسوں سے این ڈی اے حکومت سیاسی جماعتوں کو سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے ڈرا رہی ہے اور یہی طریقۂ کار اس انتخاب میں بھی اپنایا جا رہا ہے۔
سید ناصر حسین نے کہا کہ ’’یہ صرف ایک انتخاب نہیں بلکہ دو نظریات کے درمیان مقابلہ ہے—ایک نظریہ جو قوم کی تعمیر، اداروں کے تحفظ اور جمہوریت کے حق میں ہے، جب کہ دوسرا نظریہ ان سب کا استحصال کر رہا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ جو جماعتیں اس الیکشن سے دور رہیں، اُن کے پاس ایک تاریخی موقع تھا کہ وہ اپنا مؤقف واضح کریں۔
واضح رہے کہ بیجو جنتا دل (بی جے ڈی)، بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) اور شیرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی) نے نائب صدر کے انتخاب میں ووٹنگ سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایس اے ڈی نے تو باقاعدہ بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے دوران مرکز اور ریاستی حکومت کی طرف سے کوئی مؤثر مدد نہیں ملی۔ دریں اثنا کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار بی سدرشن ریڈی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں اُن تمام لیڈران کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے انتخاب سے پہلے کی مشق میں حصہ لیا۔ مجھے یقین ہے کہ جسٹس ریڈی ملک کے اگلے نائب صدر بنیں گے۔‘‘ واضح رہے کہ نائب صدر کے انتخاب میں بی سدرشن ریڈی کا مقابلہ این ڈی اے کے امیدوار سی پی رادھا کرشنن سے ہے۔ ووٹنگ صبح 10 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں شروع ہو گئی ہے، جب کہ نتیجے کا اعلان رات تک متوقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
21 ستمبر کو دونوں ممالک کے درمیان واقع غیر فوجی علاقے (ڈی ایم زیڈ) میں…
ڈیلروں کا کہنا تھا کہ غیر ملکی بینک غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کی…
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یوانو بینک کے زوال کو لے کر اب پینا…
محمد شامی کو طویل عرصے سے ٹیم انڈیا میں کھیلنے کا موقع نہیں مل سکا…
محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) کے مطابق، ہفتہ 7 نومبر کو دہلی-این سی آر…
ہائی کورٹ نے این ڈی ایم سی سے دو ہفتوں کے اندر جواب طلب کرتے…