انڈیا الائنس نے بی سدرشن ریڈی کو نائب صدر عہدے کا امیدوار بنایا ہے۔ (فائل فوٹو)
منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے نائب صدر کے انتخاب کے دوران متحدہ اپوزیشن کے امیدوار بی سدرشن ریڈی نے اپنی جیت کے یقین کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں عوامی حمایت اور سول سوسائٹی کے مثبت ردعمل سے اعتماد ملا ہے۔ بی سدرشن ریڈی نے کہا کہ ’’مجھے اپنی جیت کا مکمل یقین ہے۔ میں عوام، سول سوسائٹی اور حتیٰ کہ اپوزیشن کے لیڈران کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے میری حمایت کی۔‘‘
تاہم جب ان سے کراس ووٹنگ کے امکانات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے واضح کیا کہ ان کی کوشش صرف ارکانِ پارلیمنٹ کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ہے اور انھیں کسی بھی قسم کی کراس ووٹنگ کی توقع نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں صرف لوگوں کے ضمیر کو جگانے کی کوشش کر رہا ہوں، کراس ووٹنگ کیا ہوتی ہے، میں نہیں جانتا۔ میں نے کبھی نہیں کہا کہ کراس ووٹنگ ہوگی۔‘‘ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج بی سدرشن ریڈی نے اس موقع پر زور دیا کہ یہ انتخاب ان کے لیے آئین کے تحفظ کی ایک جدوجہد ہے اور وہ اس کے نتیجے سے قطع نظر اپنی آئینی مہم جاری رکھیں گے۔
دوسری طرف بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے کے امیدوار سی پی رادھا کرشنن کو اس انتخاب میں برتری حاصل ہے، جنھیں لوک سبھا سے 293 اور راجیہ سبھا سے 134 ووٹ ملنے کی توقع ہے، جو مجموعی طور پر 427 بنتے ہیں۔ جب کہ اپوزیشن امیدوار ریڈی کو 354 ووٹوں کی حمایت حاصل ہے۔ ووٹنگ صبح دس بجے وزیر اعظم نریندر مودی کے ووٹ ڈالنے سے شروع ہوئی، جب کہ ووٹوں کی گنتی شام کی جانے کی توقع ہے۔ دریں اثنا کئی مقامی پارٹیوں نے اس انتخاب میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں شیرومنی اکالی دل (SAD)، بھارت راشٹر سمیتی (BRS) اور بیجو جنتا دل (BJD) شامل ہیں۔ اکالی دل نے پنجاب میں سیلاب کے دوران مرکزی و ریاستی حکومت کی مبینہ بے حسی پر بطور احتجاج الیکشن کا بائیکاٹ کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
گورنر سنتوش گنگوار نے کہا کہ تیر اندازی یکسوئی اور درست نشانے کا کھیل ہے۔…
پٹنہ کے باپو آڈیٹوریم میں 26 اکتوبر کو IVY بھوجپوری میوزک ایوارڈز 2026 کا انعقاد…
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ موجودہ عالمی نظام آج کے چیلنجز کا حل پیش…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی طویل عمر اور صحت مند زندگی کے لیے نیک…
آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی صدر نیہا بورا کی عرضی پر دہلی ہائی…
پولیس نے حضرت گنج تھانے میں شردھا دوبے سے تقریباً 6 گھنٹے تک پوچھ گچھ…