پمپری چنچوڑ: کھاد سے لے کر غذائی اشیا تک کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پیاز اور چینی کے دام بڑھنے سے گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اس صورتحال پر کاروباریوں اور کسانوں نے حکومت سے مہنگائی پر قابو پانے اور قیمتیں کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔
پیاز کی رسد میں کمی سے قیمتیں بڑھیں
پیاز فروش فیروز تمبولی نے کہا کہ کم ذخیرے اور منڈی میں کم آمد کی وجہ سے پیاز کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال بازار میں پیاز کی رسد تقریباً 40 فیصد کم ہو گئی ہے۔ گزشتہ سال پیاز کی قیمت تقریباً 20 سے 25 روپے فی کلوگرام تھی، لیکن اس سال رسد میں 40 فیصد کمی کے باعث قیمت بڑھ کر 40 سے 50 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے نقل و حمل کے اخراجات میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ ان کی تقریباً 40 فیصد فصل خراب ہو گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں بازار میں پیاز کی دستیابی کم ہوئی اور قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گیا۔
کم آمد اور ذخیرہ اندوزی نے بڑھائی مشکل
فیروز تمبولی نے بتایا کہ قیمتوں میں اضافہ بنیادی طور پر منڈی میں مال کی کم آمد کی وجہ سے ہوا ہے۔ حکومت کو کاروباریوں کے پاس موجود ذخیرے پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ صورتحال میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کرنے والے افراد بھی سرگرم ہو گئے ہیں۔
مالیگاؤں منڈی میں پیاز کے دام میں اضافہ
دوسری جانب مالیگاؤں کی منڈی میں پیاز کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پیاز کے دام تقریباً 2500 روپے فی کوئنٹل سے بڑھ کر 3500 سے 3800 روپے فی کوئنٹل تک پہنچ گئے ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ شدید بارش کے باعث فصل کو نقصان پہنچا ہے اور نئی فصل آنے میں تاخیر ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ کسانوں کو گزشتہ سال کم قیمتوں کے باعث نقصان اٹھانا پڑا تھا، اس لیے اب وہ قیمتوں کے لیے ایک مستحکم پالیسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم قیمتوں میں اضافے سے عام لوگوں کے گھریلو بجٹ پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
کسان بھی مہنگائی کی زد میں
ایک کاروباری نے کہا کہ حکومت کو قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ کسان اناج پیدا کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے گھر اور خاندان کا خرچ چلانے سے قاصر ہوتا جا رہا ہے۔ خراب موسم کے باعث زرعی پیداوار بھی خراب ہو رہی ہے، جس سے کسانوں کو مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
ایک اور کسان نے کہا کہ آج کھاد سے لے کر غذائی اشیا تک ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس صورتحال میں کسانوں کو بھی شدید مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں اور عام صارفین دونوں کو راحت فراہم کرنے کے لیے مہنگائی پر قابو پانے کے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
بھارت ایکسپریس۔
یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ پائیدار ترقی (Sustainability) ہندوستان کی روایت…
اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…
لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…
بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…