نئی دہلی میں احتجاجی مظاہروں کے لیے مخصوص مقام جنتر منتر کے بجائے کسی متبادل جگہ کے تعین سے متعلق معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے اس معاملے کو اہم قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت سے تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جنتر منتر نہ صرف بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے لیے موزوں مقام نہیں رہا بلکہ وہاں بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے، جس کے باعث مظاہرین کے ساتھ ساتھ مقامی رہائشیوں کو بھی متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ معاملہ پیر، 3 اگست کو چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں قائم بنچ کے سامنے پیش ہوا۔ سماعت کے دوران عدالت نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کو ہدایت دی کہ وہ مرکزی حکومت سے اس معاملے پر ہدایات حاصل کرکے عدالت کے سامنے حکومت کا مؤقف پیش کریں۔ عدالت نے کہا کہ یہ ایک اہم عوامی مسئلہ ہے، اس لیے حکومت کو واضح کرنا ہوگا کہ کیا احتجاجی مظاہروں کے لیے کوئی متبادل یا زیادہ موزوں مقام فراہم کیا جا سکتا ہے۔
یہ درخواست ستیش چند کوشک کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ جنتر منتر پر بڑے پیمانے کے احتجاج، دھرنے اور عوامی اجتماعات منعقد کرنا عملی طور پر مناسب نہیں ہے۔ درخواست گزار کے مطابق وہاں پینے کے صاف پانی، بیت الخلا، سیوریج، کھانے پینے اور دیگر بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف مظاہرین بلکہ وہاں موجود دیگر افراد کو بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ جب جنتر منتر پر بڑے احتجاج ہوتے ہیں تو علاقے میں ٹریفک کا نظام مکمل طور پر متاثر ہو جاتا ہے۔ اس سے مقامی رہائشیوں، دفتری ملازمین، راہگیروں اور یہاں تک کہ ایمبولینس اور دیگر ایمرجنسی سروسز کی نقل و حرکت بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے، جس کے باعث عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سپریم کورٹ نے حکومت سے یہ بھی جاننا چاہا ہے کہ اگر جنتر منتر موجودہ حالات میں مناسب مقام نہیں تو کیا دہلی میں کسی دوسری جگہ کو احتجاجی مظاہروں کے لیے مختص کیا جا سکتا ہے، جہاں ایک طرف شہریوں کے آئینی حقِ احتجاج کا تحفظ ہو اور دوسری جانب عام لوگوں کی روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو۔عدالت نے اپنے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے، تاہم اس حق کے استعمال کے دوران عوامی سہولت، ٹریفک کی روانی، مقامی رہائشیوں کے حقوق اور ایمرجنسی خدمات کی بلا رکاوٹ فراہمی کو بھی یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔سپریم کورٹ کے مطابق حکومت کو ایسا متوازن نظام وضع کرنا ہوگا جس کے ذریعے شہریوں کے جمہوری حقِ احتجاج کا احترام بھی برقرار رہے اور دارالحکومت میں عوامی نظم و نسق، ٹریفک اور بنیادی سہولیات بھی متاثر نہ ہوں۔ اب اس
معاملے میں مرکزی حکومت کے جواب کے بعد عدالت آئندہ سماعت میں مزید فیصلہ کرے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
سابق رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ لڑکیوں کی کارکردگی اتنی اچھی نہیں رہی۔ میرا خیال…
ربی شیرگل کے گیتوں میں پنجابی موسیقی کے ساتھ راک، صوفی اور لوک موسیقی کا…
گیانیش کمار کی معطلی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن…
صدر پارملین کا راشٹرپتی بھون کے احاطے میں رسمی استقبال کیا گیا۔ صدر دروپدی مرمو…
اپوزیشن پر حملہ کرتے ہوئے اویسی نے کہا، سماج وادی پارٹی کے لوگوں اور تمہارے…
اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی،…