نئی دہلی: ملک بھرمیں مختلف امتحانات کے پیپرلیک کے خلاف جاری طلبا کے احتجاج پرسپریم کورٹ نے اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پُرامن اورقانونی طریقے سے احتجاج کرنا آئین کی طرف سے دیا گیا بنیادی حق ہے اور صرف احتجاج ہونے کی بنیاد پرپولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کودرست قرارنہیں دیا جا سکتا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باغچی اورجسٹس وی موہنا پرمشتمل بنچ نے یہ ریمارکس اس وقت دیئے، جب عدالت کے سامنے متعدد عرضیاں پیش کی گئیں۔
ان درخواستوں میں الزام لگایا گیا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں پیپرلیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبا پرپولیس نے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اگرپولیس زیادتی کے الزامات سامنے آئے ہیں توان کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ عدالت نے اس بات پربھی زوردیا کہ ملک بھرمیں احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لئے پولیس کے یکساں ضابطۂ کار(پروٹوکول) کی ضرورت ہے تاکہ ہرجگہ ایک ہی معیارکے مطابق کارروائی ہو۔
“پُرامن احتجاج آئینی حق ہے”
چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ آئین ہرشہری کوپُرامن اورقانونی اندازمیں احتجاج کرنے کا حق دیتا ہے۔ اگراحتجاج پُرامن ہوتوصرف اس بنیاد پرطاقت کا استعمال یا زیادتی نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اگرکہیں پولیس نے حد سے تجاوزکیا ہے تواس کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ صرف دہلی کا معاملہ نہیں بلکہ پورے ملک میں احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لئے یکساں پالیسی ہونی چاہئے۔ بنچ نے کہا کہ محض احتجاج کی وجہ سے لاٹھی چارج نہیں کیا جا سکتا اورجمہوری نظام میں نظم وضبط کی اپنی اہمیت ہے۔ عدالت نے اس واقعہ میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل کوبھی سماعت میں شامل ہونے کی اجازت دے دی۔
“پولیس اہلکارہویا طالب علم، ہرزخمی شخص تشویش کا باعث”
جسٹس جوئے مالیہ باغچی نے کہا کہ چاہے زخمی ہونے والا پولیس اہلکارہویا طالب علم، دونوں صورتیں یکساں طورپرتشویشناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت حکومت سے یہ بھی پوچھ سکتی ہے کہ پولیس کوایسے حالات سے نمٹنے کے لئے مناسب حفاظتی آلات کیوں فراہم نہیں کئے گئے۔ ان کے مطابق، پولیس اہلکاروں کے پاس ہیلمٹ اوردیگرحفاظتی سامان ہونا چاہئے۔ سپریم کورٹ نے تمام متعلقہ عرضیوں پرمشترکہ سماعت کل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
20 جولائی کے احتجاج کا حوالہ
قابل ذکرہے کہ 20 جولائی کودہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں “پارلیمنٹ چلو” احتجاجی مارچ کے دوران مظاہرین اورسیکورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔ سوشل میڈیا پرسامنے آنے والی ویڈیوزاورتصاویرمیں پولیس کوپارلیمنٹ کی طرف بڑھنے والے مظاہرین کومنتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اورآنسو گیس کے گولے استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
منیشا کیر، نیرو اور آشِما اہلاوت کی تین رکنی ٹیم نے خواتین کے ٹریپ ٹیم…
وزیر اعظم کے دفتر (PMO) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر مبارکباد دیتے ہوئے…
CAQM نے 29 ستمبر کو جاری کیا نیا گریڈیڈ رسپانس ایکشن پلان، آلودگی بڑھنے سے…
پنجاب کے تمام 117 اسمبلی حلقوں سے گزری ’نشہ مُکت پنجاب یاترا‘، بی جے پی…
بسولی میں ڈیوٹی تبدیل کرنے کے دوران بحث کے بعد 2009 بیچ کے ہیڈ کانسٹیبل…
جاپانی بروکریج کمپنی نومورا نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ ریزرو بینک اکتوبر اور دسمبر…