قومی

NEET Row: نیٹ احتجاج پر پولیس کارروائی اور تشدد کے معاملے پر سپریم کورٹ منگل کو کرے گی سماعت

نئی دہلی: نیٹ پیپر لیک اور دیگر امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف ملک بھر میں جاری طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ پولیس زیادتی کے معاملے پر سپریم کورٹ نے اہم ریمارکس دیے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ پُرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو کسی بھی صورت میں سلب نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے سے متعلق تمام عرضیوں پر منگل کو تفصیلی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ، جس میں جسٹس جوئمالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا بھی شامل تھے، نے کہا کہ صرف احتجاج ہونے کی بنیاد پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج یا حد سے زیادہ طاقت کا استعمال درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ جمہوری نظام میں شہریوں کو اپنی بات پُرامن طریقے سے رکھنے کا مکمل حق حاصل ہے۔

پولیس اور مظاہرین، دونوں کی جان اہم

سماعت کے دوران چند پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کی جانب سے دائر ایک عرضی کا بھی ذکر کیا گیا، جس میں الزام لگایا گیا کہ احتجاج کے دوران متعدد پولیس اہلکار بھی حملوں کا نشانہ بنے۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ ہر انسان کی جان قیمتی ہے، چاہے وہ مظاہرہ کرنے والا ہو یا پولیس اہلکار۔ عدالت نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مظاہرین، دونوں کے حقوق اور تحفظ کو یکساں اہمیت دی جانی چاہیے۔

ملک بھر میں احتجاج کے لیے یکساں ضابطہ بنانے کی ضرورت

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ پورے ملک میں پُرامن احتجاج کے لیے ایک مشترکہ پروٹوکول یا یکساں نظام ہونا چاہیے۔ عدالت کے مطابق احتجاج کے لیے مناسب مقامات مقرر کیے جائیں اور غیر ضروری پابندیاں عائد نہ کی جائیں۔ اگر کسی احتجاج میں سماج دشمن عناصر شامل ہو جائیں تو ان کے خلاف الگ کارروائی کی جا سکتی ہے، لیکن اس بنیاد پر تمام مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال مناسب نہیں۔عدالت نے کہا کہ یہ صرف دہلی کا معاملہ نہیں بلکہ پورے ملک میں احتجاج سے متعلق واضح اور یکساں رہنما اصول وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کے آئینی حقوق اور امن و امان، دونوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

جمہوریت میں نظم و ضبط بھی ضروری

چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ مضبوط جمہوریت کے لیے خود نظم و ضبط بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ انہوں نے تمام فریقین سے عدالت کی غیر جانبدارانہ انداز میں معاونت کرنے کی اپیل کی۔ مرکز کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو یقین دلایا کہ حکومت اس معاملے میں مکمل غیر جانبداری کے ساتھ عدالت کی معاونت کرے گی۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

نیٹ پیپر لیک اور دیگر امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف ملک کی مختلف ریاستوں میں طلبہ مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ 20 جولائی کو دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں نکالے گئے مارچ کے دوران مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ ہو گئی تھی۔ الزام ہے کہ پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے والے مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے بھی داغے تھے۔ مظاہرین اُس وقت کے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اسی واقعے کے بعد طلبہ نے مبینہ پولیس زیادتی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جس پر اب منگل کو تفصیلی سماعت ہوگی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Netanyahu Invites PM Modi & Captain Smit: اسرائیل کے یوم آزادی پر پی ایم مودی اور کیپٹن اسمت مچھار کو خصوصی دعوت، نیتن یاہو نے فون پر کی بات

اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…

7 hours ago

PM Modi Public Service Exhibition: گجرات میں وزیر اعظم مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کی نمائش، وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے کیا معائنہ

پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…

7 hours ago