قومی

Supreme Court Refuses To Entertain PIL: بابر کے نام پر مسجد کی تعمیر پر پابندی کی عرضی خارج، سپریم کورٹ کا سماعت سے انکار

نئی دہلی: سپریم کورٹ آف انڈیا نے مغل حکمراں بابر یا بابری مسجد کے نام پر ملک میں کسی بھی مسجد یا مذہبی ڈھانچے کی تعمیر پر پابندی عائد کرنے سے متعلق دائر عرضی پر غور کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ اس نوعیت کی عرضی عدالتی مداخلت کے دائرہ کار میں نہیں آتی، جس کے بعد عرضی گزار نے اپنی عرضی واپس لے لی۔ یہ معاملہ جمعہ کے روز جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل دو رکنی بنچ کے سامنے پیش ہوا۔ بنچ نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد عرضی پر تفصیلی سماعت کی ضرورت محسوس نہیں کی اور اس پر غور کرنے سے معذرت ظاہر کی۔ عدالت کے مؤقف کے بعد عرضی گزار کے وکیل نے باضابطہ طور پر عرضی واپس لے لی۔

عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ مغل بادشاہ بابر کو ایک ہندو مخالف حملہ آور قرار دیا جاتا ہے، اس لیے اس کے نام یا بابری مسجد کے عنوان سے ملک کے کسی بھی حصے میں نئی مسجد یا مذہبی عمارت کی تعمیر کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ عرضی گزار نے عدالت سے ہدایت جاری کرنے کی اپیل کی تھی تاکہ مستقبل میں ایسے ناموں کے استعمال پر روک لگائی جا سکے۔

سماعت کے دوران وکیل نے مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد میں بابری مسجد کی طرز پر مسجد تعمیر کرنے کے اعلان کا حوالہ بھی دیا۔ یہ اعلان سابق رکن اسمبلی ہمایوں کبیر کی جانب سے کیا گیا تھا، جس نے معاملے کو سیاسی اور قانونی بحث کا موضوع بنا دیا تھا۔ عرضی گزار کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے سماجی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ہمایوں کبیر نے گزشتہ برس 6 دسمبر 2025 کو مرشد آباد میں مجوزہ مسجد کی بنیاد رکھتے ہوئے کہا تھا کہ عبادت گاہوں کی تعمیر ہر شہری کا آئینی حق ہے اور وہ کسی غیر آئینی سرگرمی میں ملوث نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح ملک میں مندر، گرجا گھر یا دیگر مذہبی مقامات تعمیر کیے جا سکتے ہیں، اسی طرح مسجد کی تعمیر بھی آئین کے تحت مکمل طور پر جائز ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قانونی چیلنجز یا مقدمات اس منصوبے کو روک نہیں سکتے اور مذہبی آزادی بھارتی آئین کی بنیادی ضمانتوں میں شامل ہے۔ کبیر کے مطابق ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے جا چکے ہیں، تاہم وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حق کا استعمال کر رہے ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کو ماہرین قانون آئینی آزادیٔ مذہب کے اصول کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے سماعت سے انکار کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ مذہبی ڈھانچوں کے نام یا تعمیر سے متعلق معاملات بنیادی طور پر آئینی حقوق اور مقامی قوانین کے دائرے میں ہی طے کیے جائیں گے، نہ کہ عمومی عدالتی پابندیوں کے ذریعے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Cyclone Murasu: آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرایا سمندری طوفان موراسو، ٹرینیں اور پروازیں منسوخ، کئی ریاستوں میں بارش کا الرٹ

طوفان کے اثر سے آندھرا پردیش، تلنگانہ، تمل ناڈو، اڈیشہ اور چھتیس گڑھ میں شدید…

14 minutes ago

MEA condemns Oman ship attack: عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر حملہ، ایک ہندوستانی ملاح کی موت، بھارت نے واقعے کی مذمت کی

ہندوستان نے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خطے…

1 hour ago

Two Helicopters Collide During Landing in Nepal: نیپال میں لینڈنگ کے دوران دو ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے، ایک شخص کی موت

 نیپال میں بلند پہاڑی علاقوں اور ماؤنٹ ایورسٹ کے اطراف سیاحوں اور کوہ پیماؤں کو…

2 hours ago

Union Home Minister Amit Shah: چھتیس گڑھ راجیہ اتسو کی اختتامی تقریب میں شرکت کریں گے امت شاہ، تین اہم پروگراموں میں لیں گے حصہ

راجیہ اتسو کی اختتامی تقریب کے دوران ریاست کی خواتین کے لیے چلائی جانے والی…

2 hours ago