کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔
نئی دہلی: کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ گجرات پولیس کے ذریعہ کانگریس رکن پارلیمنٹ کے خلاف درج کرائی گئی ایف آئی آر کو سپریم کورٹ نے منسوخ کردیا ہے۔ دراصل، یہ معاملہ عمران پرتاپ گڑھی کے ذریعہ سوشل میڈیا پر شیئر کئے گئے ایک ویڈیو میں بج رہی گیت سے متعلق ہے۔ پولیس نے الزام لگایا کہ رکن پارلیمنٹ نے اشتعال انگیز شاعری شیئرکی تھی۔ اس معاملے کو خارج کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی جمہوریت کا لازمی جزو ہے۔
ایف آئی آرمنسوخ کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کیا کہا؟
اظہار رائے کی آزادی کی وکالت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ بولے گئے یا تحریری الفاظ کے اثرات کا اندازہ ان لوگوں کے معیارسے نہیں لگایا جا سکتا، جوہمیشہ عدم تحفظ کی حالت میں رہتے ہیں یا جوتنقید کو ہمیشہ اپنے اقتداریا عہدے کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔
بنیادی حقوق کا تحفظ عدالت کا فرض
جسٹس ابھے ایس اوکا اوراجول بھوئیاں کی بینچ نے کہا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرنا عدالت کا فرض ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 196 کے تحت کہے گئے یا لکھے گئے الفاظ کے سلسلے میں جرم کے متعلق فیصلہ ایک معقول اورمضبوط ذہن، پرعزم اوربہادرشخص کے معیارکی بنیاد پرلیا جانا چاہئے نہ کہ کمزوراورغیرمستحکم ذہن والے شخص کے معیارکی بنیاد پر۔ انہوں نے کہا کہ افراد یا افراد کے گروہوں کی طرف سے خیالات کا آزادانہ اظہار صحت مند اور مہذب معاشرے کا لازمی جزو ہے، خیالات اورخیالات کے اظہارکی آزادی کے بغیرباوقارزندگی گزارنا ناممکن ہے، جس کی آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت ضمانت دی گئی ہے۔
’ادب انسانی زندگی کوبناتا ہے بامقصد‘
بینچ نے کہا ، “ادب انسانی زندگی کو معنی خیزبناتا ہے،” صحت مند جمہوریت میں، نظریات، خیالات اورآراء کوایک اورنقطہ نظر سے مخالف ہونا چاہئے۔ یہاں تک کہ اگر وگوں کی ایک بڑی تعداد کسی کے اظہارخیال کے خیالات کو ناپسند کرتی ہے تواظہار رائے کے آزادی کے حق کو احترام اورمحفوظ رکھنا چاہئے۔ بشمول شاعری، ڈرامہ، فلم، طنزاورفن کومزید معنی خیزبناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات ہم ججوں کو بولے یا لکھے گئے الفاظ پسند نہیں آتے، لیکن اس کے باوجود آرٹیکل 19(1) کے تحت بنیادی حقوق کوبرقراررکھنا ہمارا فرض ہے۔”
گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے کو رکن پارلیمنٹ نے دیا تھا چیلنج
کانگریس لیڈر عمران پرتاپ گڑھی نے گجرات ہائی کورٹ کے 17 جنوری کے فیصلے کو چیلنج دیا تھا، جس میں ان کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی ان کی عرضی کو یہ کہتے ہوئے خارج کردیا تھا کہ جانچ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ جام نگرشہر میں منعقدہ ایک شادی تقریب کے پس منظرمیں سوشل میڈیا پراشتعال انگیزگانا پوسٹ کرنے کے الزام میں 3 جنوری کو عمران پرتاپ گڑھی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ پرمختلف گروہوں کے درمیان مذہب، نسل وغیرہ کی بنیاد پردشمنی کو فروغ دینے سے متعلق تعزیرات ہند کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
گیت کے الفاظ مذہبی جذبات کوٹھیس پہنچاتے ہیں
اس 46 سیکنڈ کے ویڈیوکلپ میں دکھایا گیا ہے کہ عمران پرتاپ گڑھی اپنے ہاتھ لہراتے ہوئے چل رہے ہیں اور ان پر پھولوں کی بارش کی جا رہی ہے اور پس منظر میں ایک گانا چل رہا ہے۔ اس گانے کے حوالے سے ایف آئی آرمیں کہا گیا ہے کہ ایسے گانے استعمال کیے گئے ہیں جو اشتعال انگیز، قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے ہیں۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں عمران پرتاپ گڑھی کو راحت دے دی ہے اوریہ ان کی بڑی جیت ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…