نئی دہلی: مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کے خصوصی گہرے نظرثانی (اسپیشل انٹینسو ریویژن – SIR) کے خلاف وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی جانب سے دائر عرضی پر بدھ کے روز سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں پیر کو اگلی سماعت مقرر کی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی قیادت میں جسٹس جوئی مالیا باگچی اور جسٹس وی ایم پنچولی پر مشتمل بنچ نے کہا کہ عدالت اس مسئلے کا عملی اور قابلِ عمل حل تلاش کرنے کی کوشش کرے گی۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ’’جو حقیقی ووٹر ہیں، ان کے حقوق کوئی نہیں چھین سکتا۔ عدالت اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔‘‘
الیکشن کمیشن کو احتیاط برتنے کی ہدایت
عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ ووٹر لسٹ میں مبینہ گڑبڑی کی بنیاد پر نوٹس جاری کرتے وقت انتہائی احتیاط برتی جائے۔ ممتا بنرجی کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر ایڈووکیٹ شیام دیوان نے عدالت کے اس حکم پر سوال اٹھایا، جس میں الیکشن کمیشن کو ناموں میں منطقی گڑبڑی کی بنیاد پر فہرست تیار کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ کے حتمی اشاعت میں صرف 11 دن باقی ہیں جبکہ سماعت مکمل کرنے کے لیے محض 4 دن بچے ہیں۔ وکیل نے الزام لگایا کہ 8,300 مائیکرو آبزرور تعینات کیے گئے ہیں، جن کا آئین میں کوئی ذکر نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی جائز دستاویزات مسترد کر دی گئی ہیں، جن میں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ، آدھار کارڈ اور او بی سی سرٹیفکیٹ شامل ہیں۔ لوگ 4 سے 5 گھنٹے طویل قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔ شیام دیوان نے عدالت کو بتایا کہ تقریباً 70 لاکھ افراد کے ناموں میں معمولی اسپیلنگ یا تکنیکی فرق کی بنیاد پر نوٹس بھیجے گئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے تمام نوٹس واپس لیے جائیں جن کی بنیاد محض معمولی نامی اختلاف ہو۔
سپریم کورٹ میں خود پیش ہوئیں ممتا بنرجی
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی خود سپریم کورٹ میں پیش ہوئیں اور بنچ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا موقف رکھا۔ انہوں نے کہا: ’’میں ایک عام خاندان سے ہوں، میں کوئی خاص نہیں ہوں، مگر میں سب کے لیے لڑ رہی ہوں۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کے عمل سے امتیاز پیدا ہو رہا ہے۔ اگر کوئی لڑکی شادی کے بعد شوہر کا سر نیم اختیار کرتی ہے تو اس کا نام ووٹر لسٹ سے کاٹا جا رہا ہے۔ ممتا بنرجی نے مزید کہا کہ مغربی بنگال کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ’’100 سے زائد افراد کی موت ہو چکی ہے، کئی بی ایل اوز نے خودکشی کرلی ہے۔‘‘ چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ آدھار کارڈ کے معاملے پر عدالت فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتی، کیونکہ اس پر پہلے ہی طویل سماعت ہو چکی ہے، تاہم ناموں میں غلطی اور اسپیلنگ سے متعلق شکایات پر الیکشن کمیشن سے وضاحت طلب کی جائے گی۔
الیکشن کمیشن کا جواب
الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش ہوئے ایڈووکیٹ راکیش دیویدی نے کہا کہ کمیشن نے ریاستی حکومت کو متعدد بار خط لکھ کر کہا تھا کہ کلاس-2 افسران کو ای آر او مقرر کیا جائے، مگر صرف 80 افسر فراہم کیے گئے، اسی لیے مائیکرو آبزرور تعینات کرنا پڑا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ اس معاملے کا عملی حل تلاش کرنے کی پوری کوشش کرے گی اور پیر کو دوبارہ سماعت ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے الیکشن کمیشن سے باضابطہ جواب طلب کر لیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو…
ساحل کے والد نے صرف استاد کے خلاف ہی نہیں بلکہ فیکلٹی کے سینئر افسران…
اویسی نے حال ہی میں بھوپال میں منعقد اپنے پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ وہاں…
واقعے کے بعد سرکاری طبی مرکز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر بھی سوال…
پریم سنگھ کے پاس اس وقت تقریباً 6.3 کلوگرام سونا ہے، جسے وہ روزانہ پہن…
ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس…