قومی

Supreme Court has issued a stern warning to the SIT: آپ کوجانچ کی نہیں ڈکشنری کی ضرورت ہے، پروفیسرعلی خان محمود آباد معاملے پر سپریم کورٹ نے ایس آئی ٹی کو لگائی پھٹکار

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے معروف ماہرِ تعلیم اور اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمود آباد کے خلاف سوشل میڈیا پر کیے گئے تبصرہ سے جڑے معاملے میں ہریانہ کی ایس آئی ٹی پر شدید برہمی ظاہر کی ہے۔ عدالت نے واضح کہا کہ ایس آئی ٹی کی جانچ غلط سمت میں جا رہی ہے اور اسے صرف دو ایف آئی آر تک ہی محدود رہنا چاہیے جو پروفیسر کے متنازعہ سوشل میڈیا پوسٹ سے متعلق درج کی گئی ہیں۔

ڈکشنری لے آئیں، اس کی زیادہ ضرورت ہے

جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی کی دو رکنی بنچ نے ایس آئی ٹی کو سخت لفظوں میں کہا: آپ کو اس طرح کی جانچ کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ڈکشنری کی ضرورت ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ تحقیقاتی ٹیم کو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا پروفیسر کے سوشل میڈیا بیان میں واقعی کوئی قانونی جرم بنتا ہے یا نہیں۔

گرفتاری اور سامان کی ضبطی پر سوالات

سپریم کورٹ نے ایس آئی ٹی کی جانب سے پروفیسر علی خان محمود آباد کے موبائل فون اور دیگر الیکٹرانک آلات کی ضبطی پر بھی شدید اعتراض ظاہر کیا۔ عدالت نے کہا کہ جب محمود آباد جانچ میں تعاون کر رہے تھے، تو اس قسم کا قدم غیر ضروری اور بلاجواز ہے۔

ایس آئی ٹی کو رپورٹ داخل کرنے کا حکم

عدالت نے ہریانہ ایس آئی ٹی کو چار ہفتے کے اندر اپنی مکمل جانچ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے اور متنبہ کیا کہ جانچ کو غیر متعلقہ پہلوؤں تک پھیلانے سے گریز کیا جائے۔

پروفیسر کو مشروط راحت، اظہار رائے کی آزادی بحال

سپریم کورٹ نے پروفیسر محمود آباد کو دی گئی عبوری ضمانت کو برقرار رکھتے ہوئے ان کی ضمانت کی شرطوں میں نرمی کا اعلان بھی کیا ہے۔ اب وہ سوشل میڈیا پر دیگر موضوعات پر اپنی رائے ظاہر کر سکتے ہیں، مضامین لکھ سکتے ہیں اور عوامی گفتگو میں حصہ لے سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ زیر التواء مقدمے سے متعلق بات نہ کریں۔

کیا تھا معاملہ جس پر ہوئی گرفتاری؟

یہ معاملہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستانی فوج کی کارروائی ’آپریشن سندور‘ سے جڑا ہے۔ پروفیسر علی خان محمود آباد نے اس آپریشن پر ایک سوشل میڈیا تبصرہ کیا تھا، جسے کچھ حلقوں نے متنازعہ قرار دیا اور ان کے خلاف دو ایف آئی آر درج ہوئیں۔ بعد میں ان کی گرفتاری عمل میں آئی، تاہم سپریم کورٹ نے انہیں عبوری ضمانت دے کر رہا کر دیا۔ یہ معاملہ اب اظہار رائے کی آزادی، تحقیقاتی ایجنسیوں کی حدود، اور عدالتی نگرانی جیسے اہم آئینی نکات کے مرکز میں آ چکا ہے، جس پر ملک بھر کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

UP 34 IAS Officers Transfer: اتر پردیش میں بڑا انتظامی ردوبدل، 34 آئی اے ایس افسران کے تبادلے، 14 اضلاع کو ملے نئے ڈی ایم

اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…

25 seconds ago

National Film Awards Ceremony: صدر جمہوریہ دروپدی مرمو ایکتا نگر پہنچیں، منگل کو 72ویں نیشنل فلم ایوارڈز تقریب میں ہوں گی شریک

صدر جمہوریہ مختلف زمروں کے فاتحین کو دیں گی قومی فلم ایوارڈ، تقریب میں بالی…

1 hour ago

Hanuman Ansh: رام للا کے درشن کے بعد جذباتی ہوئیں ’ہنومان انش‘ کی پروڈیوسر انوپریا ناگر، میڈیا پارٹنر ’بھارت ایکسپریس‘ کا ادا کیا شکریہ

فلم ’ہنومان انش‘ کی کامیابی کے بعد پروڈیوسر انوپریا ناگر ایودھیا پہنچیں، جہاں انہوں نے…

1 hour ago

Amaze Award 2026: بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اپیندر رائے کو امیز ایوارڈ 2026 سے نوازا جائے گا، کوی سمیلن اور مشاعرے کا ہوگا انعقاد

’ہندی میری جان 2026‘ کے دوسرے ایڈیشن میں 22 ستمبر کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر…

2 hours ago

Sonia Gandhi Electoral Roll Matter: سونیا گاندھی کے ووٹر لسٹ معاملے میں ریویژن پٹیشن منظور، 29 ستمبر کو ہوگی دوبارہ سماعت

راؤز ایونیو کورٹ کے پرانے حکم کو منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ عدالت بھیجا گیا،…

2 hours ago