دہلی فسادات کیس: عمر خالد کی نظرثانی عرضی خارج، سپریم کورٹ سے بھی نہیں ملی راحت
نئی دہلی میں سنہ 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق کیس میں گرفتار طالب علم رہنما اور سماجی کارکن عمر خالد کو ایک بار پھر عدالت سے کوئی راحت نہیں مل سکی۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے ان کی جانب سے دائر نظرثانی عرضی کو خارج کر دیا ہے، جس کے بعد ان کی جیل میں قیام بدستور جاری رہے گا۔ تفصیلات کے مطابق عمر خالد نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی تھی کہ ان کی نظرثانی عرضی کی سماعت چیمبر کے بجائے کھلی عدالت میں کی جائے تاکہ وہ اپنے موقف کو تفصیل سے پیش کر سکیں۔ تاہم سپریم کورٹ نے موجودہ ضوابط کا حوالہ دیتے ہوئے اس مطالبے کو مسترد کر دیا اور عرضی کو مکمل طور پر خارج کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد عمر خالد کی قانونی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی عمر خالد کی ضمانت کی عرضی عدالت کی جانب سے مسترد کی جا چکی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ابتدائی شواہد کی بنیاد پر ان کے خلاف عائد الزامات بظاہر درست معلوم ہوتے ہیں۔ عدالت کا یہ بھی ماننا تھا کہ ان کا کردار صرف احتجاج تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ مبینہ طور پر ہنگاموں کی منصوبہ بندی، بھیڑ جمع کرنے اور حکمت عملی طے کرنے میں بھی شامل تھے۔
کیس کی سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل میں دہلی فسادات کی سنگینی کو اجاگر کیا گیا۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 700 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق اس دوران نہ صرف پتھراؤ کیا گیا بلکہ پٹرول بم اور تیزاب جیسے خطرناک مادوں کا بھی استعمال کیا گیا، جس سے صورتحال مزید خوفناک ہو گئی تھی۔ عدالت میں کچھ ویڈیو کلپس بھی پیش کیے گئے، جن میں شرجیل امام کو مبینہ طور پر اشتعال انگیز بیانات دیتے ہوئے سنا گیا۔ پولیس نے اپنی چارج شیٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں ایک بڑی سازش کا حصہ تھیں، جس کا مقصد شہریت سے متعلق قوانین کے خلاف جاری مظاہروں کی آڑ میں دارالحکومت میں بدامنی پھیلانا تھا۔
دہلی پولیس کا مؤقف ہے کہ عمر خالد اور دیگر ملزمان نے منظم انداز میں حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تشدد ہوا۔ پولیس نے عدالت کو یقین دلایا کہ ان کے پاس پیش کیے گئے شواہد مضبوط ہیں اور اسی بنیاد پر ضمانت یا دیگر راحت نہیں دی جانی چاہیے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد واضح ہو گیا ہے کہ فی الحال عمر خالد کو کسی قسم کی قانونی راحت نہیں ملے گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق اب ان کے پاس محدود آپشنز باقی رہ گئے ہیں اور وہ مستقبل میں دیگر قانونی راستے اختیار کر سکتے ہیں۔ فی الحال یہ معاملہ بدستور زیر سماعت ہے اور آئندہ کارروائی پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بتایا جا رہا ہے کہ آئی آئی ٹی ممبئی کیمپس میں گزشتہ تقریباً 7 ماہ…
ہگلی میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کے سوال پر ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کلیان…
تفتیش کے مطابق سیا اور چیتن اکتوبر 2025 سے مسلسل ایک دوسرے کے رابطے میں…
ٹرمپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ تجارتی جنگ میں امریکہ کے پاس برتری ہے، لیکن…
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…
راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…