قومی

Shahdara Gurudwara case: سپریم کورٹ نے شاہدرہ گرودوارہ کیس میں دہلی وقف بورڈ کی عرضی خارج کی، کہا-آزادی سے پہلے سے قائم ہے گرودوارہ

سپریم کورٹ نے دہلی کے شاہدرہ میں واقع گرودوارہ کے خلاف دہلی وقف بورڈ کی عرضی کو خارج کر دیا ہے۔ دہلی وقف بورڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ گرودوارہ مسجد کی زمین پر ہے۔ تاہم جسٹس سنجے کرول اور جسٹس ستیش چندر شرما کی بنچ نے واضح طور پر کہا کہ اب وہاں مکمل طور پر فعال گرودوارہ واقع ہے، اس لیے وقف بورڈ کو رضاکارانہ طور پر اپنا دعویٰ ترک کر دینا چاہیے تھا۔

عدالت نے کہا کہ یہ گرودوارہ تقسیم کے وقت سے فعال ہے اور چوں کہ ایک مذہبی ڈھانچہ اتنے عرصے سے وہاں قائم ہے، اس لیے دہلی وقف بورڈ کو خود اپنا دعویٰ ترک کر دینا چاہیے۔ کیس کی سماعت کے دوران کرنے درخواست گزار کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل سنجے گھوش نے عدالت کو بتایا کہ نچلی عدالتوں نے یہ قبول کیا ہے کہ وہاں ایک مسجد تھی۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ گرودوارہ آزادی سے پہلے موجود ہے۔

مسجد تکیہ ببرشاہ کی زمین پر بنا ہوا ہے گرودوارہ: دہلی وقف بورڈ

واضح رہےکہ دہلی وقف بورڈ کا کہنا ہے کہ شاہدرہ میں جس جائیداد پر گرودوارہ قائم ہے، وہاں اس سے قبل مسجد تکیہ ببرشاہ نام کی ایک پرانی مسجد تھی اور وہ زمین وقف کی تھی۔ تاہم اس زمین کے مالک کے وارثین نے عدالت کو بتایا کہ وہ وقف کی جائیداد نہیں ہے بلکہ اسے ان کے جد امجد محمد احسن نے 1953 میں فروخت کیا تھا۔

سال 2010 میں دہلی ہائی کورٹ نے بھی اس معاملے میں دہلی وقف بورڈ کے دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔ دہلی ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ وقف بورڈ اپنا دعویٰ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ دہلی وقف بورڈ کے پاس ملکیتی حقوق سے متعلق کاغذات نہیں ہیں اور نہ ہی وہ اپنے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت پیش کر سکا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

No defeat is taken lightly: ہم کسی بھی شکست کو ہلکے میں نہیں لیتے، گیند اور بلے کے درمیان برابری کا مقابلہ ضروری- گوتم گمبھیر

گوتم گمبھیر نے نوجوان تیز گیند باز مایانک یادو کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا…

2 hours ago

World Mental Health Day: عالمی یومِ ذہنی صحت، دنیا میں ہر 7 میں سے 1 شخص ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار

ڈبلیو ایچ او کے مطابق، کئی ممالک کمیونٹی کی سطح پر ذہنی صحت کی خدمات…

2 hours ago