قومی

Supreme Court On Hate Speech: اشتعال انگیز تقاریر سے متعلق تمام عرضیاں خارج، سپریم کورٹ نے کہا– موجودہ قوانین کافی ہیں

نئی دہلی: ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے بدھ کے روز اشتعال انگیز تقاریر (ہیٹ اسپیچ) سے متعلق دائر تمام عرضیوں کو خارج کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس معاملے سے نمٹنے کے لیے موجودہ قانونی ڈھانچہ کافی ہے اور عدالت مزید ہدایات جاری کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ نئے قوانین بنانا عدلیہ کا نہیں بلکہ مقننہ کا اختیار ہے اور عدالتیں کسی ادارے کو قانون سازی کے لیے مجبور نہیں کر سکتیں۔ دو رکنی بنچ، جس میں جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا شامل تھے، نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئینی عدالتیں قوانین کی تشریح کر سکتی ہیں اور بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے رہنما اصول جاری کر سکتی ہیں، لیکن وہ خود قانون نہیں بنا سکتیں۔ عدالت نے کہا کہ کسی بھی عمل کو جرم قرار دینا مکمل طور پر قانون ساز اداروں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اس لیے عدالت اس معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہیٹ اسپیچ کے حوالے سے ایسا نہیں ہے کہ ملک میں کوئی قانون موجود نہ ہو۔ اس سلسلے میں اٹھنے والی تشویشات دراصل قانون کی کمی کے باعث نہیں بلکہ اس کے مؤثر نفاذ میں درپیش مشکلات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ بنچ کے مطابق، اگر قوانین پر صحیح طریقے سے عمل درآمد کیا جائے تو ایسے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ فیصلے میں فوجداری قوانین کے نئے فریم ورک کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کے تحت بنایا گیا نظام ایک جامع اور مکمل طریقہ کار فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے مجرمانہ معاملات کو مؤثر انداز میں نمٹایا جا سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس قانون کے تحت کسی بھی قسم کا کوئی قانونی خلا موجود نہیں ہے۔ مزید یہ کہ مجسٹریٹ کو حاصل اختیارات، خاص طور پر دفعہ 175(3) کے تحت، کافی وسیع ہیں اور وہ تفتیشی عمل کی نگرانی کر سکتے ہیں۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی معاملے میں کارروائی سے پہلے منظوری لینے کی شرط صرف اس وقت نافذ ہوتی ہے جب عدالت خود از خود نوٹس لے۔ یہ شرط ابتدائی مراحل جیسے ایف آئی آر درج کرنے یا مجسٹریٹ کی ہدایت پر ہونے والی تفتیش پر نافذ نہیں ہوتی۔ اس وضاحت کے ذریعے عدالت نے قانونی عمل کی حدود اور دائرہ کار کو مزید واضح کر دیا۔ بنچ نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ ہیٹ اسپیچ سے متعلق قوانین بنانا یا ان میں ترمیم کرنا مکمل طور پر پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کا اختیار ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگرچہ وہ قانون میں بہتری کی ضرورت کی نشاندہی کر سکتی ہے، لیکن یہ فیصلہ کرنا کہ قانون بنایا جائے یا نہیں، اور کس نوعیت کا بنایا جائے، یہ کام صرف قانون ساز اداروں کا ہے۔

عدالت نے بھڑکاؤ تقاریر اور افواہوں کے مسئلے کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملات براہ راست سماجی ہم آہنگی، بھائی چارے، انسانی وقار اور آئینی نظام کے تحفظ سے جڑے ہوئے ہیں۔ تاہم، عدالت نے اس حوالے سے کوئی نیا حکم جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قوانین ہی اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ فیصلہ متعدد عرضیوں کے ایک مجموعے پر سنایا گیا، جن کی شروعات سنہ 2020 کے واقعات کے بعد ہوئی تھی۔ ان عرضیوں میں الزام لگایا گیا تھا کہ نشریاتی میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے فرقہ وارانہ بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے، جس سے معاشرے میں نفرت اور تقسیم کو فروغ مل رہا ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ اگر کسی فرد یا فریق کو کسی خاص معاملے میں شکایت ہے تو وہ متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے ہدایت دی کہ فیصلے کی نقل ملک بھر کی تمام ہائی کورٹس کے رجسٹرارز کو بھیجی جائے تاکہ اس کی روشنی میں مناسب کارروائی کی جا سکے۔ ماہرین قانون کے مطابق، یہ فیصلہ عدلیہ اور مقننہ کے اختیارات کے درمیان واضح حد بندی کو ظاہر کرتا ہے اور اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ عدالتیں قانون سازی کے عمل میں براہ راست مداخلت نہیں کر سکتیں۔ ساتھ ہی یہ فیصلہ قانون کے نفاذ کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیتا ہے، تاکہ بھڑکاؤ تقاریر جیسے حساس معاملات کو مؤثر طریقے سے روکا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

CEC Gyanesh Kumar EC Meeting: تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن کی اہم میٹنگ، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ساتھ دونوں کمشنر بھی شریک

چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے…

23 minutes ago

Vande Mataram: ’وندے ماترم‘ گیت نے ہندو مسلم برادری کے درمیان بڑا فرق پیدا کیا، چنڈی گڑھ میں منعقدہ سیمینار میں مقررین کا اظہار خیال

سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…

43 minutes ago

India Tourism Record Growth: سیر و سیاحت کرنے والے بھر رہے ملک کا خزانہ، سیاحت میں تاریخی تیزی، گھریلو سیاح 428 کروڑ سے پار

غیر ملکی زرِمبادلہ سے 2.76 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی، سیاحت کے شعبے نے…

55 minutes ago

INDIA Bloc Meeting: انڈیا بلاک کے لیڈر پھر ہوں گے ایک پلیٹ فارم پر! 30 ستمبر کو میٹنگ، CEC گیانیش کمار کے خلاف حکمتِ عملی پر ہوگی بحث

SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…

1 hour ago

SIR Voter List Revision: ووٹر لسٹ میں ’صفائی‘ یا ووٹ کے حق پر بحران؟ جانیے کیا ہے ایس آئی آر تنازع اور کیوں اٹھ رہے ہیں سوالات

بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر…

2 hours ago